مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ فِيمَنْ فَاتَهُ الْوِتْرُ . باب: جس شخص کے وتر رہ جائیں
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الْوِتْرُ بَعْدَ أَذَانِ الصُّبْحِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الْأَذَانِ " قَالَ : وَكَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَالُوا : الْوِتْرُ بَعْدَ الْأَذَانِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الْأَذَانِ " فَقَالُوا الثَّالِثَةَ : الْوِتْرُ بَعْدَ الْأَذَانِ ؟ فَقَالَ : " أَوْتِرُوا بَعْدَ الْأَذَانِ " رَخَّصَ لَهُمْ . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي قَضَاءِ الْوِتْرِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! صبح کی اذان کے بعد وتر ادا کیے جا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اذان سے پہلے وتر ادا کر لو ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صبح صادق ہو جانے کے بعد اذان دی جاتی تھی ، لوگوں نے عرض کی : اذان کے بعد وتر ادا کیے جا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اذان سے پہلے وتر ادا کر لو ، لوگوں نے تیسری مرتبہ عرض کی : اذان کے بعد وتر ادا کیے جا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اذان کے بعد وتر ادا کر لو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو رخصت عطا کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد نے وتر کی قضاء کے بارے میں روایت کیا ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔