مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ عَدَدِ الْوِتْرِ . باب: وتر کی تعداد
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : تُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ؟ ! فَقَالَ سَعْدٌ : أَوَلَيِسَ إِنَّمَا الْوِتْرُ بِوَاحِدَةٍ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بَلَى وَلَكِنْ ثَلَاثٌ أَفْضَلُ قَالَ : فَإِنِّي لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا فَغَضِبَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ : أَتَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ أُوتِرَ بِرَكْعَةٍ وَأَنْتَ تُوَرِّثُ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ أَفَلَا تُوَرِّثُ حَوَّاءَ امْرَأَةَ آدَمَ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ لِأَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص سے کہا: کیا آپ ایک وتر ادا کرتے ہیں ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا وتر ، ایک نہیں ہوتا ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن تین ادا کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ، انہوں نے کہا: لیکن میں تو ایک سے زیادہ ادا نہیں کروں گا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، سیدنا سعد نے کہا: کیا آپ اس بات کی وجہ سے مجھ پر غصے میں آئے ہیں کہ میں ایک رکعت وتر ادا کرتا ہوں ، اور آپ خود تو تین دادیوں کو وارث قرار دیتے ہیں تو آپ سیدنا آدم علیہ السلام کی اہلیہ سیدہ حواء رضی اللہ عنہا کو وارث قرار کیوں نہیں دیتے ہیں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ روایت ” مرسل “ ہے ، اور صحیح ہے ، تاہم ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔