حدیث نمبر: 3397
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنَّ فِيهِمَا رَغَائِبَ الدَّهْرِ ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ قَالَ : " هُوَ صَوْمُ الدَّهْرِ " ، وَأَنْ لَا أَبِيتَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَقَالَ لِي : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ أَوَّلَ النَّهَارِ أَضْمَنْ لَكَ آخِرَهُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فجر کی دو رکعات کی وصیت کی تھی ، کیونکہ ان دونوں میں ہمیشہ رغبت پائی جاتی ہے ، اور چاشت کی دو رکعات کی وصیت کی تھی ، کیونکہ یہ نیکوکار لوگوں کی نماز ہے ، ظہر سے پہلے دو رکعات ادا کرنے اس کے بعد دو رکعات ادا کرنے ، عصر کے بعد دو رکعات ادا کرنے ، مغرب کے بعد دو رکعات ادا کرنے ، اور عشاء کے بعد دو رکعات ادا کرنے کی اور ہر مہینے میں تین دن روزے رکھنے کی ( وصیت کی تھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے ، اور یہ کہ میں وتر ادا کیے بغیر رات بسر نہ کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا : اے ابوہریرہ ! دن کے ابتدائی حصے میں تم دو رکعات ادا کر لینا ، میں اُس کے آخری حصے تک کی ضمانت دوں گا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبدالجبار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف