حدیث نمبر: 3338
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ ، فَمَشَى إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ زَيْدٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدُ إِذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيهِمَا قَالَ : فَجَلَسَ عُمَرُ إِلَيْهِ وَقَالَ : يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا جو اس وقت خلیفہ تھے کہ انہوں نے عصر کے بعد دو رکعات ادا کیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے ان کے پاس آئے اور انہیں درہ مارا ، وہ مسلسل نماز ادا کرتے رہے ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکعت کو ادا کرتے ہوئے دیکھ لینے کے بعد ، میں انہیں کبھی بھی ترک نہیں کروں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے بیٹھ گئے اور بولے : اے زید بن خالد ! مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ لوگ اس چیز کو نماز کے لئے سیڑھی بنا لیں گے ، یہاں تک کہ رات ہو جایا کرے گی ( یعنی وہ مغرب ہونے تک مسلسل نماز ادا کرتے رہیں گے ) میں ان دو رکعات کی وجہ سے پٹائی نہیں کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن