حدیث نمبر: 3337
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : أَخْبَرَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ - أَوْ أُخْبِرْتُ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ - رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ نَهْيِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَأَتَاهُ عُمَرُ فَضَرْبَهُ بِالدِّرَّةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ تَمِيمٌ أَنِ اجْلِسْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَجَلَسَ عُمَرُ حَتَّى فَرَغَ تَمِيمٌ مِنْ صَلَاتِهِ فَقَالَ لِعُمَرَ : لِمَ ضَرَبَتْنِي ؟ قَالَ : لِأَنَّكَ رَكَعْتَ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّهُ لَيْسَ بِي إِثْمٌ - أَيُّهَا الرَّهْطُ - وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ بَعْدِي قَوْمٌ يُصَلُّونَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ حَتَّى يَمُرُّوا بِالسَّاعَةِ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلَّى فِيهَا حَتْمًا وَصَلُّوا مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ( ثُمَّ يَقُولُونَ قَدْ رَأَيْنَا فُلَانًا وَفُلَانًا يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ ) وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ فِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی : ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے یہ بات بتائی گئی : کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عصر کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کرنے کے باوجود ، دو رکعات ادا کیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے اور انہیں درے کے ذریعے مارنے لگے ، تو سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے انہیں اشارہ کیا کہ آپ بیٹھ جائیں ، سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ، جب سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے ، تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے مجھے کیوں مارا ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیونکہ تم نے یہ دو رکعات ادا کی ہیں ، اور میں نے ان سے منع کیا ہے ، تو سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ دو رکعات اُس ہستی کے ہمراہ ادا کی ہیں ، جو آپ سے بہتر ہیں ، اور وہ اللہ کے رسول ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! مجھے تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے ، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو عصر کے بعد سے لے کر مغرب کے وقت تک نمازیں ادا کرتے رہیں گے ، یہاں تک کہ وہ اس گھڑی میں بھی نماز ادا کر لیں گے جس گھڑی میں ، نماز ادا کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے ، جس طرح کچھ لوگ ظہر اور عصر کو ملا دیتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں : کہ ہم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا کہ وہ عصر کے بعد بھی نماز ادا کر رہا تھا ۔
اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کے بارے میں عبدالملک بن شعیب نے یہ کہا: ہے : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف