مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ . باب: عصر کے بعد نماز ادا کرنا
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ عَلَى النَّاسِ فَضَرَبَهُمْ عَلَى السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى مَرَّ بِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ فَقَالَ : لَا أَدَعُهُمَا ، صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ النَّاسَ لَوْ كَانُوا كَهَيْئَتِكَ لَمْ أُبَالِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَعُرْوَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں عصر کے بعد دو رکعات ادا کرنے پر ، ان کی پٹائی کی ، یہاں تک کہ اُن کا گزر سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، تو سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دونوں رکعات کو ترک نہیں کروں گا ، کیونکہ میں نے یہ دونوں رکعات ، اُس ہستی کے ساتھ ادا کی ہیں ، جو آپ سے بہتر ہیں ، اور وہ اللہ کے رسول ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر لوگ تمہاری مانند ہو جائیں ، تو پھر میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، عروہ نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔