حدیث نمبر: 3317
وَلِأَبِي أَيُّوبَ فِي الْكَبِيرِ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيَّ شَهْرًا فَرَأَيْتُهُ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ - أَوْ زَالَتْ - فَإِنْ كَانَ فِي عَمَلٍ مِنَ الدُّنْيَا رَفَضَ بِهِ وَإِنْ كَانَ نَائِمًا فَكَأَنَّمَا يُوقَظُ فَيَقُومُ وَيَغْتَسِلُ - أَوْ يَتَوَضَّأُ - ثُمَّ يَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يُتِمُّ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَيُتِمَّهُنَّ وَيُحْسِنُهُنَّ وَيَتَمَكَّنُ فِيهِنَّ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْطَلِقَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ زَالَتْ فَإِنْ كَانَ فِي يَدِكَ عَمَلٌ مِنَ الدُّنْيَا رَفَضْتَ بِهِ أَوْ كُنْتَ نَائِمًا فَكَأَنَّمَا تُوقَظُ فَتَغْتَسِلُ أَوْ تَتَوَضَّأُ ثُمَّ تَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تُتِمَّهُنَّ وَتَتَمَكَّنُ فِيهِنَّ وَتُحْسِنُهُنَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ ابْوَابَ السَّمَاءِ وَأَبْوَابَ الْجَنَّةِ يُفْتَحْنَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَلَا يُوفِي أَحَدٌ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَصْعَدَ مِنِّي إِلَى رَبِّي فِي تِلْكَ السَّاعَةِ خَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ ، وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِي الْأُولَى عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ : وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، معجم کبیر میں
یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ میرے ہاں مقیم رہے ، میں نے آپ کو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو اگر آپ دنیا کا کوئی کام کر رہے ہوتے ، تو اسے ایک طرف کر دیتے تھے ، اور اگر سو رہے ہوتے تھے ، تو بیدار ہو جاتے تھے ، پھر اٹھ کر غسل کرتے تھے ، یا وضو کرتے تھے ، پھر چار رکعات ادا کرتے تھے ، جن میں آپ رکوع مکمل کرتے تھے ، آپ انہیں مکمل اور اچھے طریقے سے ادا کرتے تھے ، اور انہیں اہتمام کے ساتھ ادا کرتے تھے ، جب آپ تشریف لے جانے لگے ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا ہے ، تو اگر آپ کوئی دنیاوی کام کر رہے ہوں ، تو اسے ایک طرف کر دیتے ہیں ، اور اگر سو رہے ہوں تو یوں ہوتا ہے ، جیسے آپ کو بیدار کر دیا گیا ہے ، پھر آپ غسل کر کے یا وضو کر کے چار رکعات ادا کرتے ہیں ، جنہیں آپ اہتمام کے ساتھ مکمل اور اچھے طریقے سے ادا کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آسمان کے دروازے اور جنت کے دروازے ، اس گھڑی میں کھول دیے جاتے ہیں ، اس گھڑی میں کوئی بھی یہ نماز ادا نہیں کر رہا ہوتا ، تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ اس گھڑی میں میری طرف سے میرے پروردگار کی بارگاہ میں کوئی بھلائی اوپر جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، جس نے علی بن یزید سے
یہ روایت نقل کی ہے ، ان دونوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، ان دونوں کی توثیق بھی کی گئی ہے ، پہلی روایت میں ایک راوی عبید بن معتب ضبی ہے ، اور وہ متروک ہے ، البتہ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3317
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً