مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ لِي فِي تِلْكَ السَّاعَةِ خَيْرٌ " . باب: اس شخص کا بیان ، جو ظہر سے پہلے اور اس کے بعد نماز ادا کرے
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيَّ رَأَيْتُهُ يُدِيمُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَقَالَ : " إِنَّهُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَا يُغْلَقُ مِنْهَا بَابٌ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ لِي فِي تِلْكَ السَّاعَةِ خَيْرٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں قیام کیا ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ظہر سے پہلی کی چار رکعات باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے : ” جب سورج ڈھل جاتا ہے ، تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، تو ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ، جب تک ظہر کی نماز ادا نہیں کر لی جاتی ، تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ اس گھڑی میں میری بھلائی اوپر کی طرف جائے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔