مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ لِي فِي تِلْكَ السَّاعَةِ خَيْرٌ " . باب: اس شخص کا بیان ، جو ظہر سے پہلے اور اس کے بعد نماز ادا کرے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَوَى النَّهَارُ خَرَجَ إِلَى بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ وَقَدْ يَسَرَّ لَهُ فِيهَا طَهُورَهُ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ قَضَاهَا وَإِلَّا تَطَهَّرُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ قَدْرَ شِرَاكٍ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَشَهَّدْ بَيْنَهُنَّ وَيُسَلِّمُ فِي آخِرِ الْأَرْبَعِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَأْتِي الْمَسْجِدَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تُصَلِّيهَا وَلَا نُصَلِّيهَا ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَنْ صَلَّاهُنَّ مِنْ أُمَّتِي فَقَدْ أَحْيَا لَيْلَتَهُ ، سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيُسْتَجَابُ فِيهَا الدُّعَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب دوپہر ہو جاتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی باغ میں تشریف لے جاتے تھے ، جہاں آپ کے لئے طہارت کا پانی تیار کیا جاتا تھا ، اگر آپ نے قضائے حاجت کرنا ہوتی تھی ، تو وہ کر لیتے تھے ، ورنہ وضو کر لیتے تھے ، جب آسمان پر سے سورج ڈھل جاتا تھا ، جو تسمے جتنا ( ڈھلا ) ہوتا ، تو آپ اٹھتے اور چار رکعات ادا کرتے تھے ، آپ ان کے درمیان تشہد نہیں پڑھتے تھے ، اور چوتھی رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے ، پھر آپ اٹھ جاتے تھے ، اور مسجد تشریف لے آتے تھے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ نماز کیا ہے ، جو آپ ادا کرتے ہیں ، اور ہم اسے ادا نہیں کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کا جو شخص اس نماز کو ادا کرے گا ، تو گویا اس نے اس رات عبادت کی ، یہ ایک ایسی گھڑی ہے ، جس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور اس میں دعا مستجاب ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔