مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ فِيمَا يُصَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ وَبَعْدَهَا . باب: اس شخص کا بیان ، جو ظہر سے پہلے اور اس کے بعد نماز ادا کرے
عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ بَعْضَ نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ تَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ ! ؟ قَالَ : " تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَنْظُرُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِالرَّحْمَةِ إِلَى خَلْقِهِ ، وَهِيَ صَلَاةٌ كَانَ يُحَافِظُ عَلَيْهَا آدَمُ وَنُوحٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَمُوسَى وَعِيسَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ نصف النہار کے بعد کچھ ( نفل یعنی سنت ) نماز ادا کریں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اس گھڑی میں نماز کو مستحب سمجھتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس گھڑی میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف نظر کرتا ہے ، یہ ایک ایسی نماز ہے ، جسے سیدنا آدم ، سیدنا نوح ، سیدنا ابراہیم ، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام نے باقاعدگی کے ساتھ ادا کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن سکن ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ متروک ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی بھی کر جاتا ہے ، اور ( دوسرے راویوں کے ) برخلاف بھی نقل کر دیتا ہے ۔