حدیث نمبر: 3286
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ ضُحًى فَكَبَّرَ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا - ثَلَاثًا - اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا سَمْنًا وَلَبَنًا وَشَحْمًا وَلَحْمًا " ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابًا ، فَثَارَتْ رِيحٌ وَغُبْرَةٌ ثُمَّ اجْتَمَعَ سَحَابٌ فَصَبَّتِ السَّمَاءُ فَصَاحَ أَهْلُ الْأَسْوَاقِ وَثَارُوا إِلَى سَقَائِفِ الْمَسْجِدِ وَإِلَى بُيُوتِهِمْ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ فَسَالَتِ الطَّرِيقُ وَرَأَيْنَا ذَلِكَ الْمَطَرَ عَلَى أَطْرَافِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى كَتِفَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ كَأَنَّهُ الْجُمَانُ ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْصَرَفْتُ أَمْشِي عَلَى مَشْيِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " هَذَا أَحْدَثُكُمْ بِرَبِّهِ " قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : مَا رَأَيْتُ عَامًا قَطُّ أَكْثَرَ سَمْنًا وَلَبَنًا وَشَحْمًا وَلَحْمًا ، إِنْ هُوَ إِلَّا فِي الطَّرِيقِ مَا يَكَادُ يَشْتَرِيهِ أَحَدٌ ، ثُمَّ انْصَرَفَ نَحْوَ الرِّجَالِ فَوَعَظَهُمْ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ انْصَرَفَ نَحْوَ النِّسَاءِ فَوَعَظَهُنَّ فَشَدَّدَ عَلَيْهِنَّ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْبَنِي عَامِرٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنَا أَنَّكَ شَدَّدْتَ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ ، حَتَّى مِنْ حُبِّي الْجَمَالَ جَعَلْتُ حِرَازَ سَوْطِي هَذَا مِنْ جِلْدِ نَمِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَإِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ جَهِلَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت مسجد میں کھڑے ہوئے ، آپ نے تین تکبیریں کہیں ، پھر آپ نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو ہمیں سیراب کر دے ( یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا ، اور پھر یہ کہا: ) اے اللہ ! تو ہمیں گھی ، دودھ ، چربی اور گوشت نصیب فرما دے ! “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں آسمان میں کوئی بادل دکھائی نہیں دے رہا تھا ، پھر ہوا چلی ، غبار اڑا اور بادل اکٹھا ہو گیا اور بارش شروع ہو گئی ، یہاں تک کہ بازار کے لوگوں نے چیخ و پکار شروع کی اور مسجد کی چھت کے نیچے اور گھروں کی طرف لپکے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے ، اسی دوران راستوں میں پانی بہنے لگا ، اور ہم نے اس بارش کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے کناروں پر اور آپ کے کندھوں پر دیکھا کہ وہ بارش کے قطرے موتیوں کی طرح تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے ، میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوا واپس آیا ، آپ یہ کہہ رہے تھے : یہ تمہارے پروردگار کی بارگاہ سے آئی ہے ۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایسا کوئی سال نہیں دیکھا ، جس میں اُس سال سے زیادہ لوگوں کی صحت ہوئی ہو ، زیادہ دودھ ، زیادہ چربی ، زیادہ گوشت ( کی پیداوار ہوئی ) ہو ، یہ چیزیں راستے میں پڑی ہوتی تھیں ، اور انہیں خریدنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف مڑے آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی ، آپ نے انہیں منع کیا ، پھر آپ خواتین کی طرف تشریف لے گئے ، آپ نے انہیں وعظ کیا ، اور آپ نے انہیں ریشم اور سونے کے حوالے سے شدید تاکید کی ، بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آگے آیا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ ریشم اور سونا پہنے کے بارے میں شدید تاکید کرتے ہیں ( کہ اس کو نہیں پہننا ) اس ذات کی قسم ! جس ذات نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں جمال کو پسند کرتا ہوں ، اور جمال کو پسند کرنے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ میری اس چھڑی کا غلاف چیتے کی کھال کا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، تکبر یہ ہے کہ کوئی شخص حق سے ناواقف رہے ، اور لوگوں کو اپنی نظر میں کم تر سمجھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے ، اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے روایت کیا ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3286
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف