مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ . باب: استسقاء کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَسْقَى فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيعًا طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ " ، فَمَا لَبِثْنَا أَنْ مُطِرْنَا حَتَّى سَالَ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى أَتَوْهُ فَقَالُوا : قَدْ غَرِقْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے نزول کے دعا کرتے ہوئے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو ہمیں سیراب کرنے والے بادل سے سیراب کر دے ، جو سبزہ پیدا کرنے والا ہو ، تہہ دار ہو ، جلدی آئے ، تاخیر سے نہ آئے ، نفع بخش ہو ، نقصان دہ نہ ہو “ ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد زیادہ دیر نہیں گزری تھی ، کہ ہم پر بارش نازل ہونے لگی ، یہاں تک کہ ہر چیز بہنے لگی ، یہاں تک کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ہم ڈوب رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! ہمارے آس پاس ( بارش ہو ) اور ہم پر نہ ہو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔