حدیث نمبر: 3287
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ خَارِجَةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَدِّهِ سَعْدٍ أَنَّ قَوْمًا شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَحْطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْثُوا عَلَى الرُّكَبِ ، فَجَثَوْا ، قَالَ : " فَقُولُوا : يَا رَبِّ " فَفَعَلُوا ، فَسُقُوا حَتَّى أَحَبُّوا أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ . ¤ هَذَا لَفْظُهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ : عَامِرُ بْنُ خَارِجَةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ سَعْدٍ أَنَّ قَوْمًا شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَحْطَ الْمَطَرِ فَقَالَ : " اجْثُوا عَلَى الرُّكَبِ وَقُولُوا : يَا رَبِّ يَا رَبِّ " وَرَفَعَ السَّبَّابَةَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَسَقَوْا حَتَّى أَحَبُّوا أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ . ¤ وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ الطَّبَرَانِيِّ ، وَقَوْلُهُ : عَامِرٌ كَذَلِكَ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي تَرْجَمَةِ عَامِرِ بْنِ خَارِجَةَ وَضَعَّفَهُ . ¤
محمد محی الدین

عمر بن خارجہ بن سعد نے ، اپنے دادا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جائیں ، تو وہ لوگ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو : ” اے ہمارے پروردگار ! “ ۔ اُن لوگوں نے ایسا ہی کیا ، تو ان لوگوں پر بارش نازل ہونا شروع ہوئی ، ( اور اتنی دیر تک ہوتی رہی ) یہاں تک کہ انہوں نے یہ خواہش کی : کہ کاش کہ یہ بارش ختم ہو جائے ۔ روایت کے یہ الفاظ امام بزار کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، عامر بن خارجہ بن سعد نے اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ” کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ گھٹنوں کے بل جھک جاؤ اور یہ کہو : اے ہمارے پروردگار ! اے ہمارے پروردگار ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کی ، تو لوگوں پر بارش نازل ہونا شروع ہو گئی ، ( اور اتنی دیر تک ہوتی رہی ) یہاں تک کہ لوگوں نے یہ خواہش کی : کہ اب یہ بارش ختم ہو جائے “ ۔
امام طبرانی کی نقل کردہ روایت درست ہے ، انہوں نے لفظ عام نقل کیا ہے وہ اس طرح ہے ، امام ذہبی نے عامر بن خارجہ کے حالات میں اس شخص کا ذکر اسی طرح کیا ہے ، اور اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3287
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف