مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدِ 3256 عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : الْخُرُوجُ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: عید کے لئے کھلی جگہ پر جانا
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ يس [ أ ] وَنَحْوَهَا ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ [ السُّورَةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ الْ] سُورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ أَيْضًا [ قَدْرَ السُّورَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا ] حَتَّى صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَلِكَ فَعَلَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : راوی بیان کرتے ہیں : سورج گرہن ہوا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں سورت یسین اور اس جیسی سورت کی تلاوت کی ، پھر وہ رکوع میں گئے اور اتنی دیر رکوع میں رہے ، جتنی دیر انہوں نے تلاوت کی تھی ، پھر انہوں نے اپنے سر کو اٹھایا اور «سمع الله لِمَنْ حَمِدَه» پڑھا ، اور پھر اتنی دیر تک کھڑے ہوئے دعا کرتے رہے ، اور تکبیر کہتے رہے ، جتنی دیر انہوں نے اس سورت کی تلاوت کی تھی ، پھر وہ رکوع چلے گئے اور وہ رکوع بھی اُن کی قرأت جتنا تھا ، پھر انہوں نے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه» کہا: ، پھر وہ اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر میں اس سورت تلاوت ہوتی ہے ، پھر وہ رکوع میں اتنی دیر تک گئے یہاں تک کہ انہوں نے چار مرتبہ رکوع کیا ، پھر انہوں نے «سمع اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه» پڑھا اور پھر سجدے میں چلے گئے ، پھر وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے ، تو انہوں نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی ، جس طرح پہلی رکعت ادا کی تھی ، پھر وہ بیٹھ کر دعا کرتے رہے ، اور رغبت کا اظہار کرتے رہے ، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا ، پھر انہوں نے لوگوں کو بتایا : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔