حدیث نمبر: 3263
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ [ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلَا وَإِنَّهُمَا لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا كَذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ " ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بَعْضَ الذَّارِيَاتِ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ¤
محمد محی الدین

سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا نتقال ہوا ، تو سورج گرہن ہو گیا ، لوگوں نے کہا: سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ہیں ، اُن کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک سورج اور چاند ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، خبردار ! یہ دونوں کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، جب تم انہیں گرہن کی حالت میں دیکھو ، تو مساجد کی طرف آ جاؤ ! “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور سورت الذاریات کا کچھ حصہ تلاوت کیا پھر آپ رکوع میں چلے گئے ، پھر آپ سیدھے کھڑے ہو گئے پھر آپ نے دو مرتبہ سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، پھر آپ نے ویسا ہی کیا جس طرح آپ نے پہلی رکعت میں کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ورجالہ رجال الصحیح۔