حدیث نمبر: 3261
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ [ بْنِ عَفَّانَ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَخَرَجَ عُثْمَانُ ] فَصَلَّى بِالنَّاسِ تِلْكَ الصَّلَاةَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ دَارَهُ وَجَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدْ أَصَابَهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتِ الَّذِي تَحْذَرُونَ كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا وَاكْتَسَبْتُمُوهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
محمد محی الدین

سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں سورج گرہن ہو گیا ، اس وقت مدینہ منورہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نکلے انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، جس میں ہر رکعت میں دو مرتبہ رکوع کیا ، اور دو مرتبہ سجدہ کیا ، راوی کہتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نماز ختم کی ، تو وہ اپنے گھر تشریف لے گئے ، جب کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھ گئے اور ہم بھی اُن کے پاس بیٹھ گئے ، انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم دیتے تھے ، جب تم دیکھو کہ انہیں گرہن لگ گیا ہے ، تو تم نماز کی طرف جاؤ ، کیونکہ اگر یہ وہ صورت حال ہوئی جس سے تم بچنا چاہ رہے ہو ، تو تم غفلت کی حالت میں نہیں ہو گے ، اور اگر وہ صورت حال نہ ہوئی ، تو تم بھلائی حاصل کر لو گے ، اور اسے کما لو گے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3261
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔