حدیث نمبر: 3259
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيْنَا جَارِيَةٌ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ فِطْرٍ نَاشِرَةً شَعْرَهَا مَعَهَا دُفٌّ تُغَنِّي فَزَجَرَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعِيهَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حسان بن ثابت کی کنیز ، عید کے دن ہمارے پاس آئی ، اس نے بال پھیلائے ہوئے تھے ، اور اس کے پاس دف تھی ، وہ گا رہی تھی ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے ڈانٹا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلمہ ! اسے رہنے دو ، کیونکہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے ، اور یہ ہماری عید ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً