مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدِ 3256 عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : الْخُرُوجُ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: عید کے لئے کھلی جگہ پر جانا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمًا فِي السُّوقِ يَوْمَ الْعِيدِ يَنْظُرُ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ فِيهِمَا : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعِيدَيْنِ أَتَى وَسَطَ الْمُصَلَّى فَقَامَ فَنَظَرَ [ إِلَى ] النَّاسِ كَيْفَ يَنْصَرِفُونَ وَكَيْفَ سَمْتُهُمْ ثُمَّ يَقِفُ سَاعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ وَإِنْ كَانَ فِيهِمُ الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ فَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْسیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا عید کے دن آپ بازار میں کھڑے ہوئے تھے ، اور لوگوں کو گزرتے ہوئے ملاحظہ فرما رہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے ان دونوں میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ عید کی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ عیدگاہ کے درمیان تشریف لے آئے اور کھڑے ہو کر لوگوں کو دیکھنے لگے کہ وہ کیسے واپس جا رہے ہیں اور ان کا طور طریقہ کیا ہے ؟ آپ کچھ دیر کھڑے رہے پھر آپ بھی واپس تشریف لے گئے “ ۔
امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان میں ایک راوی منکدر بن محمد بن منکدر ہے ، اس کو امام أحمد امام ابوداؤد اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔