مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ 3172 عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَصَّدَّقَ بِدِينَارٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ قُلْتُ : وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کا جمعہ رہ جائے
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطِيبًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ : "عَسَى رَجُلٌ تَحْضُرُهُ الْجُمُعَةُ وَهُوَ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَا يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ"، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ : " عَسَى رَجُلٌ تَحْضُرُهُ الْجُمُعَةُ وَهُوَ عَلَى قَدْرِ مِيلَيْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَا يَحْضُرُهَا " ، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ : " عَسَى يَكُونُ عَلَى قَدْرِ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَا يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ وَيَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ " رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَسیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب ایک شخص کے سامنے جمعہ آئے گا ، اور وہ مدینہ سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا ، لیکن وہ جمعہ میں شریک نہیں ہو گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا : عنقریب ایسا ہو گا کہ کسی شخص کے سامنے جمعہ آئے گا ، اور وہ مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر ہو گا ، اور وہ اس میں شریک نہیں ہو گا ، اور تیسری مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ہو گا ، اور وہ جمعہ میں شریک نہیں ہو گا ، تو اللہ تعالٰی اس کے دل پر مہر لگا دے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔