مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ 3172 عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَصَّدَّقَ بِدِينَارٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ قُلْتُ : وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کا جمعہ رہ جائے
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَتَّخِذُ أَحَدُكُمُ السَّائِمَةَ فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي جَمَاعَةٍ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكَلَأُ مِنْ هَذَا فَيَتَحَوَّلُ وَلَا يَشْهَدُ إِلَّا الْجُمُعَةَ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَمْلَأُ مِنْ هَذَا فَيَتَحَوَّلُ فَلَا يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ وَلَا الْجَمَاعَةَ فَيُطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ : "حَتَّى لَا يَشْهَدَ جُمُعَةً وَلَا يَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ " وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌسیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے کوئی ایک شخص چرنے والے جانور لیتا ہے ، اور پھر اگر وہ باجماعت نماز میں شریک ہوتا ہے ، تو ان جانورں کو سنبھالنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے ، تو وہ یہ سوچتا ہے مجھے اپنے ان جانوروں کے لئے کسی ایسی جگہ کو تلاش کرنا چاہیے ، جہاں زیادہ گھاس پھوس ہو ، پھر وہ وہاں منتقل ہو جاتا ہے ، اور صرف جمعہ کی نماز میں شریک ہوتا ہے ، پھر اس کے لئے جانوروں کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے ، تو وہ کہتا ہے : مجھے اپنے ان جانوروں کے لئے ایسی جگہ تلاش کرنی چاہیے ، جو اس سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہو ، تو پھر وہ وہاں منتقل ہو جاتا ہے ، پھر وہ نہ جمعہ میں شریک ہوتا ہے ، اور نہ جماعت ( یعنی با جماعت نماز ) میں شریک ہوتا ہے ، اور اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس مفہوم کی روایت کی نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” یہاں تک کہ وہ جمعہ میں شریک نہیں ہوتا ، اور اسے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ جمعہ کا دن کون سا ہے ؟ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ ہے ، جو غفرہ کا غلام ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔