مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطْبَةِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهَا . باب: خطبہ دینا اور اس میں قرأت کرنا
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ مَحَّةَ قَالَ : كَانَ فِي خُطْبَةِ أَبِي بَكْرٍ : أَمَا تَعْلَمُونَ أَنَّكُمْ تَغْدُونَ وَتَرُوحُونَ لِأَجَلٍ مَعْلُومٍ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَقْضِيَ الْأَجَلَ وَهُوَ فِي عَمَلِ اللَّهِ تَعَالَى فَلْيَفْعَلْ ، وَلَنْ تَنَالُوا ذَلِكَ إِلَّا بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ قَوْمًا جَعَلُوا آجَالَهُمْ لِغَيْرِهِمْ فَنَهَاكُمْ أَنْ تَكُونُوا أَمْثَالَهُمْ ، وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينِ نَسُوا اللَّهَ ، أَيْنَ مَنْ تَعْرِفُونَ مِنْ إِخُوَانِكُمْ ؟ قَدِمُوا عَلَى مَا قَدَّمُوا فِي أَيَّامِ سَلَفِهِمْ وَحَلُّوا فِيهِ بِالشِّقْوَةِ وَالسَّعَادَةِ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ الْأَوَّلُونَ الَّذِينَ بَنَوُا الْمَدَائِنَ وَحَفُّوهَا بِالْحَوَائِطِ قَدْ صَارُوا تَحْتَ الصَّخْرِ وَالْآبَارِ ، هَذَا كِتَابُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ فَاسْتَضِيئُوا مِنْهُ لِيَوْمِ ظُلْمَةٍ وَاتَّضِحُوا بِشَأْنِهِ وَبَيَانِهِ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَثْنَى عَلَى زَكَرِيَّا وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَقَالَ : ( كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ ) لَا خَيْرَ فِي قَوْلٍ لَا يُرَادُ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، وَلَا خَيْرَ فِي مَالٍ لَا يُنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَغْلِبُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَنُعَيْمُ بْنُ مَحَّةَ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُنعیم بن محہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر کے خطبہ میں یہ کلمات تھے : ” کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تم صبح و شام ایک متعین مدت کی طرف بڑھ رہے ہو تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ آخری وقت تک اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرتا رہے ، تو اسے ایسا کرنا چاہیے تو تم اس منزل تک اللہ تعالٰی کی مدد کے بغیر نہیں پہنچ سکتے ہو کچھ لوگوں نے اپنی توقعات دوسروں کے لئے مقرر کی ہوئی ہیں تو اس نے تمہیں اس بات سے منع کیا ہے کہ تم ان کی مانند ہو جاؤ اور تم ان لوگوں کی مانند بھی نہ ہو جانا جو اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تم اپنے جن بھائیوں سے واقف تھے وہ کہاں ہیں ؟ وہ اس چیز کی طرف چلے گئے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا تھا اور اب ان کے بارے میں بدنصیبی یا سعادت مندی طے ہو چکی ہے پہلے زمانے کے حکمران کہاں ہیں ؟ جنہوں نے بڑے شہر بنائے تھے ، اور انہیں دیواروں کے ذریعے محفوظ کر دیا تھا اور وہ سب چٹانوں کے نیچے اور کنوؤں کے نیچے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ، جس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے ، تو تم تاریکی کے دن کے لئے اس سے روشنی حاصل کرو اور اس کی شان اور اس کے بیان کے ذریعے وضاحت حاصل کرو بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا ذکریا علیہ السلام اور ان کے اہلِ بیت کی تعریف کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” وہ لوگ بھلائی کے کام میں جلدی کرنے والے تھے رغبت رکھتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے ہم سے دعا کیا کرتے تھے ، اور وہ لوگ ہمارا خشوع رکھتے تھے “ ۔ ایسی کسی بھی بات میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالی کی رضا کا ارادہ نہ کیا گیا ہو ایسے کسی مال میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جسے اللہ تعالی کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ایسے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کی بردباری اس کی جہالت پر غالب نہ آئے اور ایسے کسی شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی علامت سے خوف زدہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور نعیم بن محہ نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔