مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطْبَةِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهَا . باب: خطبہ دینا اور اس میں قرأت کرنا
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَجِيءُ كُلَّ خَمِيسٍ فَيَقُومُ قَائِمًا لَا يَجْلِسُ فَيَقُولُ : لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ، فَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ وَلَا يُلْهِيَنَّكُمُ الْأَمَلُ ، فَإِنَّ كُلَّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ ، أَلَا إِنَّ الْبَعِيدَ [ مَا لَيْسَ ] آتِيًا، وَإِنَّ مِنْ شَرَارِ النَّاسِ بَطَّالُ النَّهَارِ جِيفَةُ اللَّيْلِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ہر جمعرات کے دن تشریف لاتے تھے ، اور کھڑے ہو جاتے تھے وہ اس دوران بیٹھتے نہیں تھے وہ یہ فرماتے تھے تم لوگوں کو آزمائش کا شکار نہ کرو کیونکہ لوگوں میں ضعیف عمر رسیدہ اور کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں ، اور تمہاری توقعات طویل نہ ہو جائیں اور خواہشات تمہیں غافل نہ کر دیں کیونکہ جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے ، اور جو چیز دور ہے وہ نہیں آئے گی لوگوں میں سے برے لوگ وہ ہیں جو دن کے وقت احمق ہوتے ہیں ، اور رات کو مردار ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ابوعبیدہ نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔