مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطْبَةِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهَا . باب: خطبہ دینا اور اس میں قرأت کرنا
حدیث نمبر: 3151
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ ، يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، وَإِنَّ الْآخِرَةَ وَعْدٌ صَادِقٌ يَحْكُمُ فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ يُحِقُّ الْحَقَّ وَيُبْطِلُ الْبَاطِلَ، أَيُّهَا النَّاسُ كُونُوا أَبْنَاءَ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا أَبْنَاءَ الدُّنْيَا فَإِنَّ كُلَّ أُمٍّ يَتْبَعُهَا وَلَدُهَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّامحمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو دنیا سامنے موجود سامان ہے ، جس میں سے نیک اور گناہگار ( یعنی ہر قسم کا فرد ) کھا لیتا ہے ، اور آخرت ایک سچا وعدہ ہے ، جس میں قدرت رکھنے والا بادشاہ فیصلہ دے گا وہ حق کو حق ظاہر کر دے گا ، اور باطل کو باطل طے کر دے گا ، اے لوگو ! آخرت والے بن جاؤ دنیا والے نہ بنو کیونکہ ہر ماں کا بچہ اس کے پیچھے جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔