حدیث نمبر: 314
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " ثَلَاثٌ كَفَّارَاتٌ ، وَثَلَاثٌ دَرَجَاتٌ ، وَثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ ، وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ ; فَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَوَاتِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ . وَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . وَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ : فَالْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، وَالْقَصْدُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى ، وَخَشْيَةُ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ . وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ : فَشُحٌّ مُطَاعٌ ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِبَعْضِهِ ، وَقَالَ : " إِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ مِنَ الْخُيَلَاءِ " ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ وَزِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں کفارہ ہیں ، تین چیزیں درجات میں اضافہ کا باعث ہیں ، تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاکت کا شکار کرنے والی ہیں ، جہاں تک کفارہ بننے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ سخت سردی میں اچھی طرح وضو کرنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، قدم اُٹھا کر ( یعنی دور سے چل کے ) جمعہ ( یا با جماعت نماز ) کی ادائیگی کے لئے جانا ہے ، جہاں تک درجات میں اضافہ کا باعث بننے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا ، اور رات میں اُس وقت ( نفل ) نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، جہاں تک نجات دلانے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ غصہ اور رضامندی ( ہر حال میں ) عدل کرنا ، تنگی اور خوشحالی ( ہر حال میں ) میانہ روی اختیار کرنا اور پوشیدہ و علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا ہے ، جہاں تک ہلاکت کا شکار کرنے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو ایسی کنجوسی ، جس کی اطاعت کی بجائے ، ایسی نفسانی خواہش ، جس کی پیروی کی جائے ، اور آدمی کا خود پسندی کا شکار ہونا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کا خود پسندی کا شکار ہونا ، تکبر کا حصہ ہے “ ۔
اس روایت کی سند میں ، ایک راوی زائدہ بن ابورقاد ہے ، اور ایک راوی زیاد نمیری ہے ، ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 314
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5452 اورده المؤلف فى كشف الاستار 80 اورده المنذري فى الترغيب والترهيب 161/1»