مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُنْجِيَاتِ وَالْمُهْلِكَاتِ . باب: نجات دلانے والی چیزوں اور ہلاکت کا شکار کرنے والی چیزوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ ، وَثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ ، وَثَلَاثٌ كَفَّارَاتٌ ، وَثَلَاثٌ دَرَجَاتٌ ; فَأَمَّا الْمُهْلِكَاتٌ : فَشُحٌّ مُطَاعٌ ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ . وَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ : فَالْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، وَالْقَصْدُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى ، وَخَشْيَةُ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ . وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ . وَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَمَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزیں ہلاکت کا شکار کرنے والی ہیں ، تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں ، تین چیزیں کفارہ بنے والی ہیں ، تین چیزیں درجات ( میں اضافہ کا باعث ) ہیں ، جہاں تک ہلاکت کا شکر کرنے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ ایسی کنجوسی ہے ، جس کی اطاعت کی جائے ، اور ایسی نفسانی خواہش ہے ، جس کی پیروی کی جائے اور آدمی کا اپنے بارے میں خود پسندی کا شکار ہونا ہے ، جہاں تک نجات دلانے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ غضب یا رضامندی کے عالم میں ( یعنی ہر حال میں ) عدل کرنا ، تنگی یا خوشحالی ( ہر حال میں ) میانہ روی اختیار کرنا ، پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے ، جہاں تک کفارہ بنے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سخت سردی میں اچھی طرح وضو کرنا ، اور قدم اُٹھا کر ( یعنی زیادہ دور سے چل کے ) باجماعت نماز کے لیے جانا ہے ، جہاں تک درجات ( میں اضافہ کا باعث بننے ) والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا اور رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک تو ابن لہیعہ ہے اور دوسرا ایک ایسا راوی ہے ، جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔