مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ . باب: اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھنا اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض رکھنا ایمان کا حصہ ہے
وَعَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ لِي : أَحِبَّ فِي اللَّهِ ، وَأَبْغِضْ فِي اللَّهِ ، وَوَالِ فِي اللَّهِ ، وَعَادِ فِي اللَّهِ ; فَإِنَّهُ لَا تُنَالُ وِلَايَةُ اللَّهِ إِلَّا بِذَلِكَ ، وَلَا يَجِدُ رَجُلٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ - وَإِنْ كَثُرَتْ صَلَاتُهُ وَصِيَامُهُ - حَتَّى يَكُونَ كَذَلِكَ ، وَصَارَتْ مُؤَاخَاةُ النَّاسِ فِي أَمْرِ الدُّنْيَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى ضَعْفِهِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ فِيمَنْ يَغْضَبُ لِلَّهِ وَيَرْضَى لِلَّهِ . ¤مجاہد نے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : اُنہوں نے مجھ سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھو ! اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھو ، اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی رکھو ، اللہ تعالیٰ کی خاطر دشمنی رکھو ، اللہ تعالیٰ کی ولایت تک صرف اس ( عمل ) کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے ، اور آدمی نے خواہ کتنی ہی نمازیں پڑھی ہوں اور روزے رکھے ہوں ، وہ ایمان کا ذائقہ اُس وقت تک نہیں پا سکتا ، جب تک وہ ایسا نہیں ہو جاتا ، لوگوں کا بھائی چارہ ، تو دنیاوی معاملے کے حوالے سے ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس سے پہلے سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے ، جو اُس شخص کے بارے میں ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی خاطر راضی ہوتا ہے ۔