مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِنْصَاتِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ . باب: امام کے خطبے کے دوران خاموش رہنا
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ أَوْ كَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ [ أُبَيٌّ ] ، فَظَنَّ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهَا مَوْجِدَةٌ ، فَلَمَّا انْفَتَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : يَا أُبَيُّ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرُدَّ عَلَيَّ ؟ قَالَ : إِنَّكَ لَمْ تَحْضُرْ مَعَنَا الْجُمُعَةَ قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : تَكَلَّمْتَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فَقَامَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ أُبَيٌّ ، أَطِعْ أُبَيًّا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَفِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے وہ سیدنا ابی بن کعب کے پہلو میں بیٹھ گئے اور ان سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ، یا ان سے کسی چیز کے بارے میں کلام کیا تو سیدنا ابی نے انہیں جواب نہیں دیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ ناراض ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے سیدنا ابی آپ نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا تو انہوں نے فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے تم ہمارے ساتھ جمعہ میں شریک نہیں ہوئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ سیدنا ابی نے فرمایا : کیونکہ تم نے اس وقت کلام کیا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابی نے ٹھیک کہا: ہے تم ابی کی اطاعت کرو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے معجم کبیر میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے امام ابویعلیٰ کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔