کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: امام کے خطبے کے دوران خاموش رہنا
حدیث نمبر: 3123
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ، وَالَّذِي يَقُولُ لَهُ : أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمُعَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ النَّاسُ وَوَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن کلام کرے اور امام اس وقت خطبہ دے رہا ہو تو وہ اس گدھے کی مانند ہے ، جس نے بوجھ اٹھایا ہوا ہو اور جو شخص اس سے یہ کہے کہ تم خاموش رہو اس کا جمعہ نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3123
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3124
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَخَطَبَ النَّاسَ وَتَلَا آيَةً ، وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ : يَا أُبَيُّ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ؟ قَالَ : فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أُبَيٌّ : مَا لَكَ مِنْ جُمُعَتِكَ إِلَّا مَا لَغَيْتَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقُلْتُ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ؛ إِنَّكَ تَلَوْتَ آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ : مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى إِذَا نَزَلْتَ زَعَمَ أُبَيٌّ أَنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ جُمُعَتِي إِلَّا مَا لَغَيْتَ فَقَالَ : " صَدَقَ أُبِيٌّ إِذَا سَمِعْتَ إِمَامَكَ يَتَكَلَّمُ فَأَنْصِتْ حَتَّى يَفْرُغَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہو کر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے آپ نے ایک آیت تلاوت کی میرے پہلو میں سیدنا ابی بن کعب موجود تھے میں نے ان سے کہا: اے سیدنا ابی یہ آیت کب نازل ہوئی ہے ، تو انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی پھر میں نے ان سے سوال کیا تو پھر انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لے آئے تو سیدنا ابی نے فرمایا : تمہارے اس جمعہ میں سے تمہارے حصے میں صرف لغو حرکت آئی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو بتایا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک آیت تلاوت کی تھی میرے پہلو میں سیدنا ابی بن کعب موجود تھے میں نے ان سے دریافت کیا : یہ آیت کب نازل ہوئی ، تو انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ جب آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے تو سیدنا ابی کا یہ کہنا تھا : اس جمعے میں سے میرا حصہ صرف وہ حرکت ہے ، جو میں نے لغو حرکت کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابی نے ٹھیک کہا: ہے ، جب تم اپنے امام کو کلام کرتے ہوئے سنو تو تم اس کے فارغ ہونے تک خاموش رہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3125
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ لِرَجُلٍ : لَا جُمُعَةَ لَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِمَ يَا سَعْدُ ؟ " قَالَ : لِأَنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ وَأَنْتَ تَخْطُبُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ سَعْدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ النَّاسُ ، وَوَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص نے ایک شخص سے کہا: تمہارا جمعہ نہیں ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے سعد وہ کیوں انہوں نے عرض کی : اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے آپ کے خطبے کے دوران کلام کر لیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سعد نے ٹھیک کہا: ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3125
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3126
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ أَوْ كَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ [ أُبَيٌّ ] ، فَظَنَّ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهَا مَوْجِدَةٌ ، فَلَمَّا انْفَتَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : يَا أُبَيُّ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرُدَّ عَلَيَّ ؟ قَالَ : إِنَّكَ لَمْ تَحْضُرْ مَعَنَا الْجُمُعَةَ قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : تَكَلَّمْتَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فَقَامَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ أُبَيٌّ ، أَطِعْ أُبَيًّا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَفِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے وہ سیدنا ابی بن کعب کے پہلو میں بیٹھ گئے اور ان سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ، یا ان سے کسی چیز کے بارے میں کلام کیا تو سیدنا ابی نے انہیں جواب نہیں دیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ ناراض ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے سیدنا ابی آپ نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا تو انہوں نے فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے تم ہمارے ساتھ جمعہ میں شریک نہیں ہوئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ سیدنا ابی نے فرمایا : کیونکہ تم نے اس وقت کلام کیا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابی نے ٹھیک کہا: ہے تم ابی کی اطاعت کرو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے معجم کبیر میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے امام ابویعلیٰ کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3126
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3127
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَطَبَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ جُمُعَةٍ فَذَكَرَ سُورَةً فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ لِأُبَيٍّ : مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : مَا لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ إِلَّا مَا لَغَيْتَ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : "صَدَقَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو [ وَ ] قَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ وَفِيهِ اخْتِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ایک سورت کا ذکر کیا ، تو سیدنا ابوذر غفاری نے سیدنا ابی سے کہا: یہ سورت کب نازل ہوئی ہے ، تو سیدنا ابی نے ان سے منہ پھیر لیا جب نماز ختم ہوئی ، تو سیدنا ابی نے کہا: تمہاری اس نماز میں سے تمہارا حصہ صرف تمہاری لغو حرکت ہے سیدنا ابوذر غفاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس نے ٹھیک کہا: ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، اس راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3127
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3128
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَتَيْتُمُ الْجُمُعَةَ فَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ وَاسْتَمِعُوا الْخُطْبَةَ وَلَا تَلْغُوا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم جمعہ کے لئے آؤ تو امام کے قریب رہو اور غور سے خطبہ سنو اور لغو حرکت نہ کرو “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ روایت کیا ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3128
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3129
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَكَّرَنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً فَغَمَزَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَالَ : مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ فَإِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ أُبَيٌّ : لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ ، فَأَخْبَرَ أَبُو الدَّرْدَاءِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَا قَالَ أُبَيٌّ فَقَالَ : " صَدَقَ أُبَيٌّ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ہمیں وعظ و نصیحت کر رہے تھے پھر آپ نے ایک سورت تلاوت کی سیدنا ابودرداء نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ٹہوکا دیا اور دریافت کیا : یہ سورت کب نازل ہوئی ہے یہ تو میں نے صرف اب سنی ہے ، تو سیدنا ابی نے انہیں اشارہ کیا کہ تم خاموش رہو جب لوگوں نے نماز ختم کر لی تو سیدنا ابی نے کہا: تمہاری اس نماز میں سے تمہارا حصہ صرف تمہاری لغو حرکت ہے سیدنا ابودرداء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابی کی بات کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابی نے ٹھیک کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3129
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3130
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَا : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا تَقَدَّمَ أَنَّ الْإِمَامَ أَحْمَدَ رَوَاهُ هُوَ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَلَكِنَّ الطَّبَرَانِيَّ رَوَى هَذَا عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَذَكَرَ بَعْدَهُ إِسْنَادًا إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَإِسْنَادُهُمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ أَحَادِيثُ فِي حُقُوقِ الْجُمُعَةِ وَالتَّبْكِيرِ فِيهَا وَالْإِنْصَاتِ لَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جمعہ کے دن تلاوت کی راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول وہ حدیث جو اس سے پہلے گزر چکی ہے ، جسے امام أحمد نے روایت کیا ہے ، اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے ، لیکن امام طبرانی نے اسے سیدنا ابودرداء کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور اس کے بعد سیدنا ابودرداء اور سیدنا ابوذر غفاری تک سند ذکر کی ہے ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اور ان دونوں روایات کی اسناد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں اس سے پہلے جمعہ کے حقوق سے متعلق باب میں ایسی احادیث گزر چکی ہیں جو جمعہ کے لئے جلدی جانے اور خاموش رہنے کے بارے میں ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3131
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ لَا يَلْغُو فِيهَا وَلَا يَجْهَلُ وَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيَشْهَدُهَا مَعَ الْإِمَامِ إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا، وَلَا صَلَّى صَلَاةً مَكْتُوبَةً إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی شخص جمعہ میں شریک ہو اور اس میں کوئی لغو حرکت نہ کرے جہالت کا اظہار نہ کرے اچھی طرح وضو کرے امام کے ساتھ اس میں شریک ہو ، تو یہ چیز اس کے لئے اس جمعہ اور اس کے بعد والے جمعہ تک کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی ، اور جو شخص فرض نماز ادا کرتا ہے ، تو وہ اس نماز اور اس کے بعد والی نماز کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالحمید ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبرانى ياب الالف من اسمه احمد 2114»
حدیث نمبر: 3132
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : يُكْرَهُ الْكَلَامُ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاطِنَ : يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَيَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى وَفِي الِاسْتِسْقَاءِ [ إِذَا صَعِدَ الْإِمَامُ الْمِنْبَرَ ] ، فَتَكَلَّمَ حَتَّى نَزَلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں چار مواقع پر کلام کو مکروہ قرار دیا گیا ہے جمعہ کے دن عیدالفطر کے دن عیدالاضحی کے دن اور نماز استسقاء میں جب امام منبر پر بیٹھ چکا ہو اور کلام شروع کر چکا ہو جب تک وہ منبر سے نیچے نہیں آتا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، اسے امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ امام ترمذی اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3132
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3133
وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْمَسْجِدَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ نِقَاءٌ حِسَانٌ فَنَظَرَ إِلَى مَكَانٍ فِيهِ سَعَةٌ ، فَجَلَسَ فِيهِ وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا ، وَخَرَجَ الْإِمَامُ فَإِذَا رَجُلَانِ يَتَكَلَّمَانِ ، فَأَخَذَ مِنَ الْحَصَى فَرَمَاهُمَا فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَسَكَتَا فَلَمَّا نَزَلَ الْإِمَامُ قَالَ : أَلَمْ تَعْلَمَا أَنَّكُمَا فِي صَلَاةٍ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ لَهُ تَرْجَمَةً . ¤
محمد محی الدین
ابوقیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے انہوں نے سفید صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے انہوں نے ایک جگہ کی طرف دیکھا جہاں گنجائش تھی تو وہاں بیٹھ گئے انہوں نے کسی کی گردن کو نہیں پھلانگا پھر امام آیا تو اس دوران دو آدمی بات چیت کر رہے تھے انہوں نے کنکریاں پکڑیں اور ان دونوں کو ماریں ان دونوں نے سیدنا عبداللہ تعالیٰ کی طرف دیکھا اور پھر وہ دونوں خاموش ہو گئے جب امام منبر سے نیچے آیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم دونوں یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تم دونوں نماز کی حالت میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کے حالات میں نے نہیں پائے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3133
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3134
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي النَّخَعِيَّ - قَالَ : اسْتَقْرَأَ رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : الَّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ نَصِيبُكَ مِنَ الْجُمُعَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن کی کسی آیت کے بارے میں دریافت کیا : اس وقت امام جمعہ کے دن خطبہ دے رہا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جب نماز مکمل ہو گئی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم نے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا جمعہ میں سے تمہارا حصہ وہی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3134
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3135
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَفَى لَغْوًا أَنْ تَقُولَ لِصَاحِبِكَ : أَنْصِتْ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ فِي الْجُمُعَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لغو حرکت ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جمعہ کے دن جب امام آ چکا ہو تو تم اپنے ساتھی سے یہ کہو : کہ تم خاموش ہو جاؤ !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3135
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔