مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِنْصَاتِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ . باب: امام کے خطبے کے دوران خاموش رہنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَطَبَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ جُمُعَةٍ فَذَكَرَ سُورَةً فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ لِأُبَيٍّ : مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : مَا لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ إِلَّا مَا لَغَيْتَ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : "صَدَقَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو [ وَ ] قَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ وَفِيهِ اخْتِلَافٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ایک سورت کا ذکر کیا ، تو سیدنا ابوذر غفاری نے سیدنا ابی سے کہا: یہ سورت کب نازل ہوئی ہے ، تو سیدنا ابی نے ان سے منہ پھیر لیا جب نماز ختم ہوئی ، تو سیدنا ابی نے کہا: تمہاری اس نماز میں سے تمہارا حصہ صرف تمہاری لغو حرکت ہے سیدنا ابوذر غفاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس نے ٹھیک کہا: ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، اس راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔