مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِنْصَاتِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ . باب: امام کے خطبے کے دوران خاموش رہنا
حدیث نمبر: 3125
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ لِرَجُلٍ : لَا جُمُعَةَ لَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِمَ يَا سَعْدُ ؟ " قَالَ : لِأَنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ وَأَنْتَ تَخْطُبُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ سَعْدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ النَّاسُ ، وَوَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص نے ایک شخص سے کہا: تمہارا جمعہ نہیں ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے سعد وہ کیوں انہوں نے عرض کی : اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے آپ کے خطبے کے دوران کلام کر لیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سعد نے ٹھیک کہا: ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔