حدیث نمبر: 3124
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَخَطَبَ النَّاسَ وَتَلَا آيَةً ، وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ : يَا أُبَيُّ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ؟ قَالَ : فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أُبَيٌّ : مَا لَكَ مِنْ جُمُعَتِكَ إِلَّا مَا لَغَيْتَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقُلْتُ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ؛ إِنَّكَ تَلَوْتَ آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ : مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى إِذَا نَزَلْتَ زَعَمَ أُبَيٌّ أَنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ جُمُعَتِي إِلَّا مَا لَغَيْتَ فَقَالَ : " صَدَقَ أُبِيٌّ إِذَا سَمِعْتَ إِمَامَكَ يَتَكَلَّمُ فَأَنْصِتْ حَتَّى يَفْرُغَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہو کر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے آپ نے ایک آیت تلاوت کی میرے پہلو میں سیدنا ابی بن کعب موجود تھے میں نے ان سے کہا: اے سیدنا ابی یہ آیت کب نازل ہوئی ہے ، تو انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی پھر میں نے ان سے سوال کیا تو پھر انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لے آئے تو سیدنا ابی نے فرمایا : تمہارے اس جمعہ میں سے تمہارے حصے میں صرف لغو حرکت آئی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو بتایا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک آیت تلاوت کی تھی میرے پہلو میں سیدنا ابی بن کعب موجود تھے میں نے ان سے دریافت کیا : یہ آیت کب نازل ہوئی ، تو انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ جب آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے تو سیدنا ابی کا یہ کہنا تھا : اس جمعے میں سے میرا حصہ صرف وہ حرکت ہے ، جو میں نے لغو حرکت کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابی نے ٹھیک کہا: ہے ، جب تم اپنے امام کو کلام کرتے ہوئے سنو تو تم اس کے فارغ ہونے تک خاموش رہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔