حدیث نمبر: 3106
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ يَخْطُبُ إِلَيْهَا يَعْتَمِدُ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْ عَائِشَةُ فَصَنَعَتْ لَهُ مِنْبَرَهُ هَذَا ، فَلَمَّا قَامَ إِلَيْهِ وَتَرَكَ مَقَامَهُ إِلَى السَّارِيَةِ خَارَتِ السَّارِيَةُ خُوَارًا شَدِيدًا - حَتَّى تَرَكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَامَهُ - تَشَوُّقًا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَشَى نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اعْتَنَقَهَا فَلَمَّا اعْتَنَقَهَا هَدَأَ الصَّوْتُ الَّذِي سَمِعْنَا، فَقُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : أَنَا سَمِعْتُ وَأَهْلُ الْمَسْجِدِ ، وَهُوَ أَحَدُ السَّوَارِي الَّتِي تَلِي الْحُجْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے آپ اس کے ساتھ ٹیک لگا لیتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی ہدایت کے تحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ منبر بنایا گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر کی طرف گئے اور آپ نے ستون کے پاس کھڑے ہونے کو ترک کیا تو وہ ستون آواز نکال کر رونے لگا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی وجہ سے ایسا کر رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے اس کے پاس تشریف لے گئے آپ نے اسے اپنے ساتھ لگایا جب آپ نے اسے اپنے ساتھ لگایا تو وہ آواز ختم ہو گئی جو ہم سن رہے تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نے خود وہ آواز سنی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے بھی سنی تھی اور اہل مسجد نے بھی سنی تھی اور یہ ان ستونوں میں سے ایک تھا جو حجرہ کے پاس تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3106
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔