حدیث نمبر: 3107
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ يَتَسَانَدُ إِلَيْهِ فَمَرَّ رُومِيٌّ فَقَالَ : لَوْ دَعَانِي مُحَمَّدٌ فَجَعَلْتُ لَهُ مَا هُوَ أَرْفَقُ بِهِ مِنْ هَذَا قَالَتْ : فَدُعِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَهُ الْمِنْبَرَ أَرْبَعَ مَرَاقٍ ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ يَخْطُبُ ، فَحَنَّ الْجِذْعُ كَمَا تَحِنُّ النَّاقَةُ فَنَزَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : "مَا شَأْنُكَ ؟ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ اللَّهَ فَرَدَّكَ إِلَى مُحْتَبَسِكَ ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ اللَّهَ فَأَدْخَلَكَ [ اللَّهُ ] الْجَنَّةَ فَأَثْمَرْتَ فِيهَا فَأَكَلَ مِنْ ثَمَرِكَ أَنْبِيَاءُ اللَّهِ الْمُرْسَلُونَ وَعِبَادُهُ الْمُتَّقُونَ " قَالَتْ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " نَعَمْ " فَغَارَ الْجِذْعُ فَذَهَبَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے : ایک رومی شخص کا گزر ہوا تو اس نے کہا: اگر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا تو میں ان کے لئے ایک ایسی چیز تیار کر دوں گا ، جوان کے لئے اس سے زیادہ موزوں ہو گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلا کر لایا گیا تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چار سیڑھیوں کا منبر تیار کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور خطبہ دینے لگے ، تو لکڑی کا وہ تنا یوں رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس گئے اور فرمایا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروں گا وہ تمہیں تمہاری جگہ کی طرف لوٹا دے گا ، اور اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں وہ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا اس میں تم پر پھل لگیں گے اور تمہارے پھل میں سے اللہ کے نبی مرسلین اور پرہیزگار بندے کھائیں گے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ٹھیک ہے ، تو وہ لکڑی کا ٹکڑا گھن زدہ ہو کر ختم ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف