حدیث نمبر: 3105
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَيْهَا فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْإِسْلَامَ قَدِ انْتَهَى ، وَكَثُرَ النَّاسُ وَيَأْتِيكَ الْوُفُودُ مِنَ الْآفَاقِ ، فَلَوْ أَمَرْتَ بِصَنْعَةِ شَيْءٍ تَشْخَصُ عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ لِرَجُلٍ : "أَتَصْنَعُ الْمِنْبَرَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : فُلَانٌ قَالَ : " لَسْتَ بِصَانِعِهِ " فَدَعَا آخَرَ فَقَالَ : " أَتَصْنَعُ الْمِنْبَرَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَةِ هَذَا فَقَالَ : نَعَمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : إِبْرَاهِيمُ قَالَ : " خُذْ فِي صَنْعَتِهِ" فَلَمَّا صَنَعَهُ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِ فَحَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ فَسَمِعَ صَوْتَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ - أَوْ قَالَ : أَهْلُ الْمَدِينَةِ - فَنَزَلَ فَالْتَمَسَهَا فَسَكَنَتْ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَرَكْتُهَا لَحَنَّتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : عَزَا بَعْضَهُ إِلَى ابْنِ مَاجَهْ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي سَمَاعِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْجَرِيرِيِّ إِلَّا شَيْبَةُ قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَلَا الرَّاوِي عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے : آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اسلام دور دراز تک پہنچ چکا ہے لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے دور دراز سے وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اگر آپ کوئی ایسی چیز تیار کرنے کا حکم دیں جس پر آپ تشریف فرما ہوا کریں ( تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا : کیا تم منبر بنا لو گے اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ، اس نے جواب دیا : فلاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے نہیں بناؤ گے پھر آپ نے ایک اور شخص کو بلایا اور دریافت کیا : کیا تم منبر بنا لو گے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! اس کے ساتھ بھی پہلے والے شخص کی مانند مکالمہ ہوا تو اس نے کہا: جی ہاں ! ان شاءاللہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ، اس نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ بناؤ جب اس نے اس کو بنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے تو لکڑی کا دو تنا یوں رونے لگا جس طرح اونٹنی روتی ہے یہاں تک کہ مسجد والوں نے اس کی آواز سنی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اہل مدینہ نے اس کی آواز سنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے آپ نے اسے لپٹا لیا تو وہ پرسکون ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں اسے ایسے ہی رہنے دیتا تو یہ قیامت کے دن تک روتا رہتا “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” اطراف “ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام ابن ماجہ کی طرف کی ہے ، اور میں نے اپنے سماع میں یہ روایت نہیں پائی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : جریری کے حوالے سے اس روایت کو صرف شیبہ نے نقل کیا ہے میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا اور اس سے روایت کرنے والے فرد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3105
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف