حدیث نمبر: 3098
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ : كَانَ جِذْعُ نَخْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ يُسْنِدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَهْرَهُ إِلَيْهِ إِذَا تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ يُرِيدُ أَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ فَقَالُوا : أَلَا نَجْعَلُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَقَدْرِ قِيَامِكَ قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا " فَصَنَعُوا لَهُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَخَارَ كَمَا تَخُورُ الْبَقَرَةُ جَزَعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَالْتَزَمَهُ وَمَسَحَهُ حَتَّى سَكَنَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي حُبَابٍ الْكَلْبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مسجد میں کھجور کا ایک تنا موجود تھا جس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کلام کرنے کے دوران ٹیک لگا لیا کرتے تھے یا جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا تھا جب بھی آپ نے لوگوں کے ساتھ کوئی بات چیت کرنی ہوتی تھی اس وقت ایسا کر لیتے تھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے لئے ایسی چیز نہ بنا دیں کہ جو آپ کے قیام کی جگہ کفایت کر جائے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم ایسا کر لو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، تو لوگوں نے تین سیڑھیوں کا منبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کروایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے تو کھجور کا وہ تنا یوں رونے لگا جس طرح کوئی گائے ڈکراتی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کی وجہ سے ایسا کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لپٹا لیا اور اس پر ہاتھ پھیرا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے
یہ روایت امام أحمد نے ابوحباب کلبی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ وہ ” ثقہ “ ہے لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے یہ روایت معنعن کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ابوحباب کلبی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ وہ ” ثقہ “ ہے لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے یہ روایت معنعن کے طور پر نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3099
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا ، وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى تَرَى النَّاسَ - أَوْ قَالَ : يَرَاكَ النَّاسُ - وَحَتَّى يَسْمَعَ النَّاسُ خُطْبَتَكَ قَالَ : "نَعَمْ" فَصَنَعُوا لَهُ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا كَانَ يَقُومُ فَصَغَا الْجِذْعُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ : " اسْكُنْ ، [ ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَذَا الْجِذْعُ حَنَّ إِلَيَّ " فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْكُنْ ] إِنْ تَشَأْ غَرَسْتُكَ فِي الْجَنَّةِ فَيَأْكُلُ مِنْكَ الصَّالِحُونَ ، وَإِنْ شِئْتَ أُعِيدُكَ كَمَا كُنْتَ رَطْبًا ؟ " فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دُفِعَ إِلَى أُبَيٍّ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى أَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا أبي بن كعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے مسجد پر چھت ڈالی گئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے اس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کے لئے کوئی چیز تیار کرتے ہیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو جایا کریں تاکہ آپ لوگوں کو ملاحظہ فرما سکیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور لوگ آپ کے خطبے کو سن سکیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے لوگوں نے آپ کے لئے تین سیڑھیوں کا منبر بنا دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے جس طرح آپ پہلے کھڑے ہوا کرتے تھے تو کھجور کا وہ تنا آپ کے لئے رونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم پرسکون ہو جاؤ پھر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا یہ تنا میری خاطر رو رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم پرسکون ہو جاؤ اگر تم چاہو تو میں تمہیں جنت میں لگوا دوں گا ، اور نیک لوگ تم میں سے کھائیں گے اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں پہلے کی طرح لکڑی بنا دیتا ہوں تو اس نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو اختیار کیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ تنا سیدنا ابی کو دے دیا گیا اور وہ مسلسل ان کے پاس رہا یہاں تک کہ زمین نے اسے کھا لیا ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اسے عبداللہ نے مسند أحمد کی زیادات میں روایت کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اسے عبداللہ نے مسند أحمد کی زیادات میں روایت کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3100
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُومُ إِلَى خَشَبَةٍ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا يَخْطُبُ كُلَّ جُمُعَةٍ حَتَّى أَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ جَعَلْتُ لَكَ شَيْئًا إِذَا قَعَدْتُ عَلَيْهِ كُنْتَ كَأَنَّكَ قَائِمٌ قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ : فَجُعِلَ لَهُ الْمِنْبَرُ ، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَيْهِ حَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ عَلَى وَلَدِهَا حِينَ نَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ رَأَيْتُهَا قَدْ حُوِّلَتْ فَقُلْنَا : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَارِحَةَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَحَوَّلُوهَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لکڑی کے پاس کھڑے ہو کر اس کے ساتھ ٹیک لگا کر ہر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے لئے ایک ایسی چیز بنا دیتا ہوں جس پر آپ تشریف فرما ہوں گے ، تو یوں ہو گا جیسے آپ کھڑے ہوئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے ، تو آپ کے لئے منبر بنایا گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے تو لکڑی کا وہ ٹکڑا یوں رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کی خاطر روتی ہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا جب اگلا دن آیا تو میں نے اس ٹکڑے کو دیکھا کہ اسے وہاں سے منتقل کر دیا گیا تھا ہم نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ، تو لوگوں نے بتایا آج صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تھے ، اور انہوں نے اسے منتقل کر دیا ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3101
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشَبَةٌ يَقُومُ إِلَيْهَا فَجَاءَ رَجُلٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ لَهُ كُرْسِيًّا فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ عَلَيْهِ فَحَنَّتِ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا حَتَّى سَمِعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَنِينَهَا قَالَ : فَقُلْتُ لِلْعَوْفِيِّ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ سَمِعْتُهُ لَعَمْرِي ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْتَضَنَهَا فَسَكَنَتْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ ٹیک لگا کر آپ کھڑے ہوتے تھے ایک شخص آیا آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ آپ کے لئے کرسی بنا دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو لکڑی کا وہ ٹکڑا رونے لگا جس کے پاس آپ پہلے کھڑے ہوا کرتے تھے یہاں تک کہ اہل مسجد نے اس کے رونے کی آواز سنی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عوفی سے دریافت کیا : کیا تم نے خود یہ روایت ان کی زبانی سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے میں نے ان کی زبانی یہ روایت سنی ہے : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے محمد بن ابولیلی کے حوالے سے عطیہ سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے محمد بن ابولیلی کے حوالے سے عطیہ سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 3102
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُومُ إِلَى خَشَبَةٍ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا يَخْطُبُ كُلَّ جُمُعَةٍ حَتَّى أَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ وَقَالَ : إِنْ شِئْتَ جَعَلْتُ لَكَ شَيْئًا إِذَا قَعَدْتَ عَلَيْهِ كُنْتَ كَأَنَّكَ قَائِمٌ قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ : فَجُعِلَ لَهُ الْمِنْبَرُ فَلَمَّا جَلَسَ عَلَيْهِ حَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ عَلَى وَلَدِهَا حَتَّى نَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ فَرَأَيْتُهَا قَدْ حُوِّلَتْ فَقُلْنَا : مَا هَذَا ؟ قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَحَوَّلُوهَا . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤ وَتَأْتِي لِجَابِرٍ أَحَادِيثُ فِي الْمِنْبَرِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لکڑی کے پاس کھڑے ہو کر اس پر ٹیک لگا کر ہر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے روم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے لئے ایک ایسی چیز تیار کر دیتا ہوں کہ آپ اس پر بیٹھ جایا کریں گے اور یوں ہو گا کہ جیسے آپ کھڑے ہوئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے منبر بنایا گیا جب آپ اس پر تشریف فرما ہوئے تو لکڑی کا وہ ٹکڑا یوں رونے لگا جس طرح کوئی اونٹنی اپنے بچے کی خاطر روتی ہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا راوی کہتے ہیں : جب اگلا دن آیا تو میں نے یہ دیکھا کہ اسے وہاں سے منتقل کر دیا گیا ہے ہم نے دریافت کیا : وہ کہاں گیا ؟ تو لوگوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تھے ، اور انہوں نے اسے منتقل کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، لیکن اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے سیدنا جابر کے حوالے سے منقول کچھ اور احادیث جو منبر کے بارے میں ہیں ، وہ آگے آئیں گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے سیدنا جابر کے حوالے سے منقول کچھ اور احادیث جو منبر کے بارے میں ہیں ، وہ آگے آئیں گی ۔
حدیث نمبر: 3103
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ أَتَّخِذُ الْمِنْبَرَ فَقَدِ اتَّخَذَهُ أَبِي إِبْرَاهِيمُ وَإِنْ أَتَّخِذُ الْعَصَا فَقَدِ اتَّخَذَهَا أَبِي إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر میں منبر استعمال کرتا ہوں تو میرے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بھی اسے استعمال کیا تھا اور اگر میں عصا استعمال کرتا ہوں تو میرے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بھی اسے استعمال کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3104
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ خَطَبَ عَلَى الْمَنَابِرِ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
سعد بن ابراہیم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سب سے پہلے منبر پر خطبہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 3105
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَيْهَا فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْإِسْلَامَ قَدِ انْتَهَى ، وَكَثُرَ النَّاسُ وَيَأْتِيكَ الْوُفُودُ مِنَ الْآفَاقِ ، فَلَوْ أَمَرْتَ بِصَنْعَةِ شَيْءٍ تَشْخَصُ عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ لِرَجُلٍ : "أَتَصْنَعُ الْمِنْبَرَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : فُلَانٌ قَالَ : " لَسْتَ بِصَانِعِهِ " فَدَعَا آخَرَ فَقَالَ : " أَتَصْنَعُ الْمِنْبَرَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَةِ هَذَا فَقَالَ : نَعَمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : إِبْرَاهِيمُ قَالَ : " خُذْ فِي صَنْعَتِهِ" فَلَمَّا صَنَعَهُ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِ فَحَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ فَسَمِعَ صَوْتَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ - أَوْ قَالَ : أَهْلُ الْمَدِينَةِ - فَنَزَلَ فَالْتَمَسَهَا فَسَكَنَتْ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَرَكْتُهَا لَحَنَّتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : عَزَا بَعْضَهُ إِلَى ابْنِ مَاجَهْ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي سَمَاعِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْجَرِيرِيِّ إِلَّا شَيْبَةُ قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَلَا الرَّاوِي عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے : آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اسلام دور دراز تک پہنچ چکا ہے لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے دور دراز سے وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اگر آپ کوئی ایسی چیز تیار کرنے کا حکم دیں جس پر آپ تشریف فرما ہوا کریں ( تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا : کیا تم منبر بنا لو گے اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ، اس نے جواب دیا : فلاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے نہیں بناؤ گے پھر آپ نے ایک اور شخص کو بلایا اور دریافت کیا : کیا تم منبر بنا لو گے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! اس کے ساتھ بھی پہلے والے شخص کی مانند مکالمہ ہوا تو اس نے کہا: جی ہاں ! ان شاءاللہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ، اس نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ بناؤ جب اس نے اس کو بنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے تو لکڑی کا دو تنا یوں رونے لگا جس طرح اونٹنی روتی ہے یہاں تک کہ مسجد والوں نے اس کی آواز سنی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اہل مدینہ نے اس کی آواز سنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے آپ نے اسے لپٹا لیا تو وہ پرسکون ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں اسے ایسے ہی رہنے دیتا تو یہ قیامت کے دن تک روتا رہتا “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” اطراف “ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام ابن ماجہ کی طرف کی ہے ، اور میں نے اپنے سماع میں یہ روایت نہیں پائی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : جریری کے حوالے سے اس روایت کو صرف شیبہ نے نقل کیا ہے میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا اور اس سے روایت کرنے والے فرد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : جریری کے حوالے سے اس روایت کو صرف شیبہ نے نقل کیا ہے میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا اور اس سے روایت کرنے والے فرد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3106
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ يَخْطُبُ إِلَيْهَا يَعْتَمِدُ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْ عَائِشَةُ فَصَنَعَتْ لَهُ مِنْبَرَهُ هَذَا ، فَلَمَّا قَامَ إِلَيْهِ وَتَرَكَ مَقَامَهُ إِلَى السَّارِيَةِ خَارَتِ السَّارِيَةُ خُوَارًا شَدِيدًا - حَتَّى تَرَكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَامَهُ - تَشَوُّقًا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَشَى نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اعْتَنَقَهَا فَلَمَّا اعْتَنَقَهَا هَدَأَ الصَّوْتُ الَّذِي سَمِعْنَا، فَقُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : أَنَا سَمِعْتُ وَأَهْلُ الْمَسْجِدِ ، وَهُوَ أَحَدُ السَّوَارِي الَّتِي تَلِي الْحُجْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے آپ اس کے ساتھ ٹیک لگا لیتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی ہدایت کے تحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ منبر بنایا گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر کی طرف گئے اور آپ نے ستون کے پاس کھڑے ہونے کو ترک کیا تو وہ ستون آواز نکال کر رونے لگا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی وجہ سے ایسا کر رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے اس کے پاس تشریف لے گئے آپ نے اسے اپنے ساتھ لگایا جب آپ نے اسے اپنے ساتھ لگایا تو وہ آواز ختم ہو گئی جو ہم سن رہے تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نے خود وہ آواز سنی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے بھی سنی تھی اور اہل مسجد نے بھی سنی تھی اور یہ ان ستونوں میں سے ایک تھا جو حجرہ کے پاس تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3107
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ يَتَسَانَدُ إِلَيْهِ فَمَرَّ رُومِيٌّ فَقَالَ : لَوْ دَعَانِي مُحَمَّدٌ فَجَعَلْتُ لَهُ مَا هُوَ أَرْفَقُ بِهِ مِنْ هَذَا قَالَتْ : فَدُعِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَهُ الْمِنْبَرَ أَرْبَعَ مَرَاقٍ ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ يَخْطُبُ ، فَحَنَّ الْجِذْعُ كَمَا تَحِنُّ النَّاقَةُ فَنَزَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : "مَا شَأْنُكَ ؟ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ اللَّهَ فَرَدَّكَ إِلَى مُحْتَبَسِكَ ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ اللَّهَ فَأَدْخَلَكَ [ اللَّهُ ] الْجَنَّةَ فَأَثْمَرْتَ فِيهَا فَأَكَلَ مِنْ ثَمَرِكَ أَنْبِيَاءُ اللَّهِ الْمُرْسَلُونَ وَعِبَادُهُ الْمُتَّقُونَ " قَالَتْ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " نَعَمْ " فَغَارَ الْجِذْعُ فَذَهَبَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے : ایک رومی شخص کا گزر ہوا تو اس نے کہا: اگر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا تو میں ان کے لئے ایک ایسی چیز تیار کر دوں گا ، جوان کے لئے اس سے زیادہ موزوں ہو گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلا کر لایا گیا تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چار سیڑھیوں کا منبر تیار کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور خطبہ دینے لگے ، تو لکڑی کا وہ تنا یوں رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس گئے اور فرمایا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروں گا وہ تمہیں تمہاری جگہ کی طرف لوٹا دے گا ، اور اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں وہ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا اس میں تم پر پھل لگیں گے اور تمہارے پھل میں سے اللہ کے نبی مرسلین اور پرہیزگار بندے کھائیں گے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ٹھیک ہے ، تو وہ لکڑی کا ٹکڑا گھن زدہ ہو کر ختم ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3108
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ خَالٍ لِي [ مِنَ الْأَنْصَارِ ] ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ إِلَى الْغَابَةِ وَأْتِنِي مِنْ خَشَبِهَا فَاعْمَلْ لِي مِنْبَرًا أُكَلِّمُ عَلَيْهِ النَّاسَ " فَعَمِلَ لَهُ مِنْبَرًا لَهُ عَتَبَتَانِ وَجَلَسَ عَلَيْهِمَا . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي عَمَلِ الْمِنْبَرِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد بیان کرتے ہیں : میں اپنے انصاری ننھیالی عزیزوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم جنگل کی طرف جاؤ اور میرے لئے وہاں سے لکڑی لے کے آؤ اور میرے لیے منبر تیار کرو تاکہ اس پر بیٹھ کر میں لوگوں کے ساتھ بات چیت کیا کروں تو ان صاحب نے ان کے لئے دو چوکھٹوں کا منبر بنایا آپ اس پر تشریف فرما ہوا کرتے تھے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں بھی ایک حدیث منقول ہے ، جو منبر بنانے کے بارے میں ہے ، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3109
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صَنَعَ الْمِنْبَرَ حَنَّ الْجِذْعُ إِلَيْهِ فَاعْتَنَقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَكَنَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے جب آپ نے منبر بنوا لیا تو کھجور کا وہ تنا رونے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گلے لگایا تو وہ پرسکون ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔