مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمِنْبَرِ . باب: منبر کا بیان
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا ، وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى تَرَى النَّاسَ - أَوْ قَالَ : يَرَاكَ النَّاسُ - وَحَتَّى يَسْمَعَ النَّاسُ خُطْبَتَكَ قَالَ : "نَعَمْ" فَصَنَعُوا لَهُ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا كَانَ يَقُومُ فَصَغَا الْجِذْعُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ : " اسْكُنْ ، [ ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَذَا الْجِذْعُ حَنَّ إِلَيَّ " فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْكُنْ ] إِنْ تَشَأْ غَرَسْتُكَ فِي الْجَنَّةِ فَيَأْكُلُ مِنْكَ الصَّالِحُونَ ، وَإِنْ شِئْتَ أُعِيدُكَ كَمَا كُنْتَ رَطْبًا ؟ " فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دُفِعَ إِلَى أُبَيٍّ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى أَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا أبي بن كعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے مسجد پر چھت ڈالی گئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے اس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کے لئے کوئی چیز تیار کرتے ہیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو جایا کریں تاکہ آپ لوگوں کو ملاحظہ فرما سکیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور لوگ آپ کے خطبے کو سن سکیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے لوگوں نے آپ کے لئے تین سیڑھیوں کا منبر بنا دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے جس طرح آپ پہلے کھڑے ہوا کرتے تھے تو کھجور کا وہ تنا آپ کے لئے رونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم پرسکون ہو جاؤ پھر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا یہ تنا میری خاطر رو رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم پرسکون ہو جاؤ اگر تم چاہو تو میں تمہیں جنت میں لگوا دوں گا ، اور نیک لوگ تم میں سے کھائیں گے اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں پہلے کی طرح لکڑی بنا دیتا ہوں تو اس نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو اختیار کیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ تنا سیدنا ابی کو دے دیا گیا اور وہ مسلسل ان کے پاس رہا یہاں تک کہ زمین نے اسے کھا لیا ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اسے عبداللہ نے مسند أحمد کی زیادات میں روایت کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔