حدیث نمبر: 3098
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ : كَانَ جِذْعُ نَخْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ يُسْنِدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَهْرَهُ إِلَيْهِ إِذَا تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ يُرِيدُ أَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ فَقَالُوا : أَلَا نَجْعَلُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَقَدْرِ قِيَامِكَ قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا " فَصَنَعُوا لَهُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَخَارَ كَمَا تَخُورُ الْبَقَرَةُ جَزَعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَالْتَزَمَهُ وَمَسَحَهُ حَتَّى سَكَنَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي حُبَابٍ الْكَلْبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مسجد میں کھجور کا ایک تنا موجود تھا جس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کلام کرنے کے دوران ٹیک لگا لیا کرتے تھے یا جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا تھا جب بھی آپ نے لوگوں کے ساتھ کوئی بات چیت کرنی ہوتی تھی اس وقت ایسا کر لیتے تھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے لئے ایسی چیز نہ بنا دیں کہ جو آپ کے قیام کی جگہ کفایت کر جائے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم ایسا کر لو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، تو لوگوں نے تین سیڑھیوں کا منبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کروایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے تو کھجور کا وہ تنا یوں رونے لگا جس طرح کوئی گائے ڈکراتی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کی وجہ سے ایسا کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لپٹا لیا اور اس پر ہاتھ پھیرا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے
یہ روایت امام أحمد نے ابوحباب کلبی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ وہ ” ثقہ “ ہے لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے یہ روایت معنعن کے طور پر نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3098
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف