مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ . باب: اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھنا اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض رکھنا ایمان کا حصہ ہے
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ ، قَالَ : " أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ ، وَتُبْغِضَ لِلَّهِ ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ " . قَالَ : وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ ، وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ " ، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : " وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ " . ¤ وَفِي الْأُولَى رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَفِي الثَّانِيةِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ . ¤سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھو ، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھو ، اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر کے لیے استعمال کرو ! سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یوں کہ تم لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ، اور تم لوگوں کے لیے وہی چیز ناپسند کرو ، جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو “ ۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : ” اور یہ کہ تم بھلائی کی بات کہو یا پھر خاموش رہو “ ۔
پہلی روایت میں رشدین بن سعد ہے ، اور دوسری روایت میں ابن لہیعہ ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ، یہ دونوں روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ۔