حدیث نمبر: 306
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَقُ ؟ " . فَقَالُوا : الصَّلَاةُ . قَالَ : " حَسَنَةٌ ، وَمَا هِيَ بِهَا ؟ " قَالُوا : صِيَامُ رَمَضَانَ . قَالَ : " حَسَنٌ ، وَمَا هُوَ بِهِ ؟ " قَالُوا : الْجِهَادُ . قَالَ : " حَسَنٌ ، وَمَا هُوَ بِهِ ؟ " قَالَ : " إِنَّ أَوْثَقَ عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے دریافت کیا : اسلام کی کون سی رسی زیادہ مضبوط ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : نماز ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اچھی ہے ، لیکن یہ مراد نہیں ہے ، لوگوں نے عرض کی : رمضان کے روزے ، آپ نے فرمایا : یہ بھی اچھے ہیں لیکن یہ مراد نہیں ہے ، لوگوں نے عرض کی : جہاد کرنا ، آپ نے فرمایا : یہ بھی اچھا ہے ، لیکن یہ مراد نہیں ہے ، پھر آپ نے فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھو اور اللہ کے لیے بغض رکھو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، جسے اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 306
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 286/4 أورده المؤلف فى زوائد المسند 118»