حدیث نمبر: 304
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَجِدُ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ ، فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوِلَايَةَ ، وَإِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي ، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی ، صریح ایمان کو اُس وقت تک نہیں پا سکتا ، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کے ساتھ محبت نہیں رکھتا ، اور اللہ تعالی کے لیے کسی کے ساتھ بغض نہیں رکھتا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھتا ہے ، تو وہ ولایت کا مستحق ہو جاتا ہے ( حدیث قدسی میں ، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” میرے بندوں میں سے ، میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے ، میرے محبوب بندے ، وہ ہیں کہ میرے ذکر کے ساتھ اُن کا ذکر کیا جاتا ہے ، اور اُن کے ذکر کے ساتھ میرا ذکر کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 304
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف