حدیث نمبر: 303
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ ، فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَأَبْغَضَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوِلَايَةَ مِنَ اللَّهِ ، إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي ، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بنده صریح ایمان کا حقدار اُس وقت تک نہیں ہوتا ، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت نہیں رکھتا ، اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض نہیں رکھتا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض رکھتا ہے ، تو وہ اللہ تعالی کی ولایت کا مستحق ہو جاتا ہے ( اور حدیث قدسی میں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) ” میرے بندوں میں سے ، میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے ، میرے محبوب بندے ، وہ ہیں کہ میرے ذکر کے ہمراہ اُن کا ذکر کیا جاتا ہے ، اور اُن کے ذکر کے ہمراہ ، میرا ذکر کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ منقطع اور ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 303
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 430/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 115»