مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ مِنَ الْخَيْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . باب: جمعہ کے دن بھلائی کے کون سے کام کرنے چاہیئں ؟
حدیث نمبر: 3031
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ إِلَّا عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ أَوْ ذِي عِلَّةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو الْبِلَادِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جمعہ واجب ہے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو کسی کی ملکیت ہو یا کسی علت ( یعنی بیماری ) کا شکار ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوالبلاد نامی راوی کے بارے میں امام ابوحاتم نے یہ کہا: ہے ، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔