مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ مِنَ الْخَيْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . باب: جمعہ کے دن بھلائی کے کون سے کام کرنے چاہیئں ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةَ إِلَّا عَبْدٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ ، وَمَنِ اسْتَغْنَى بِلَهْوٍ أَوْ تِجَارَةٍ اسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَظِيمِ بْنِ رَغْبَانَ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ أَقْرَبُ إِلَى الضَّعْفِ ، وَعَبْدُ الْعَظِيمِ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالٰی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ ادا کرنا لازم ہے البتہ غلام یا عورت یا بچے کا معاملہ مختلف ہے ، اور جو شخص دلچسپی کی کسی چیز یا تجارت کی وجہ سے اس سے بے نیازی اختیار کرے گا اللہ تعالی اس شخص سے بے نیازی اختیار کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے ، اور لائق حمد ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبدالعظیم بن رغبان کی ابومعشر سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور ابومعشر نامی راوی ضعیف ہونے کے زیادہ قریب ہے ، اور عبدالعظیم نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔