مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ مِنَ الْخَيْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . باب: جمعہ کے دن بھلائی کے کون سے کام کرنے چاہیئں ؟
حدیث نمبر: 3032
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ إِلَّا عَلَى امْرَأَةٍ أَوْ صَبِيٍّ أَوْ مَرِيضٍ أَوْ عَبْدٍ أَوْ مُسَافِرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ضِرَارٌ ، رَوَى عَنِ التَّابِعِينَ ، وَأَظُنُّهُ ابْنَ عَمْرٍو الْمَلْطِيَّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جمعہ واجب ہے البتہ عورت یا بچے یا بیمار یا غلام یا مسافر کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی ان پر واجب نہیں ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار ہے وہ تابعین سے روایات نقل کرتا ہے میرا خیال ہے کہ یہ ابن عمرو ملطی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔