کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جمعہ کے دن بھلائی کے کون سے کام کرنے چاہیئں ؟
حدیث نمبر: 3026
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ وَافَقَ صِيَامُهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعَادَ مَرِيضًا وَشَهِدَ جِنَازَةً وَتَصَدَّقَ وَأَعْتَقَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن روزہ رکھ لے بیمار کی عیادت کرے جنازے میں شریک ہو صدقہ کرے اور غلام آزاد کرے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3026
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3027
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَمْسٌ مَنْ عَمِلَهُنَّ فِي يَوْمٍ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ : مَنْ صَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَرَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَشَهِدَ جِنَازَةً وَأَعْتَقَ رَقَبَةً " ، قُلْتُ : وَسَقَطَ : " وَعَادَ مَرِيضًا " فِيمَا أَحْسَبُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” پانچ کام ایسے ہیں جنہیں کوئی شخص ایک دن میں کر لے گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت میں نوٹ کر لے گا ، جو شخص جمعہ کے دن روزہ رکھے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے جائے جنازے میں شریک ہو اور غلام آزاد کرے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میرا خیال یہ ہے ، اس میں یہ ذکر نہیں ہوا : ” اور بیمار کی عیادت کرئے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3027
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3028
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَلَّى الْجُمُعَةَ وَصَامَ يَوْمَهُ وَعَادَ مَرِيضًا وَشَهِدَ جِنَازَةً وَشَهِدَ نِكَاحًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ فِيهِمْ مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الْأَوْصَابِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُغْرِبُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جمعہ کی نماز ادا کرے اس دن روزہ رکھے بیمار کی عیادت کرے جنازے میں شریک ہو نکاح میں شریک ہو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال میں ایک راوی محمد بن حفص اوصابی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3028
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3029
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : خَطَبَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا فِي سَاعَتِي هَذِهِ فِي شَهْرِي هَذَا فِي عَامِي هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، مَنْ تَرَكَهَا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ مَعَ إِمَامٍ عَادِلٍ أَوْ إِمَامٍ جَائِرٍ فَلَا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ شَمْلَهُ وَلَا بُورِكَ لَهُ فِي أَمْرِهِ ، أَلَا وَلَا صَلَاةَ لَهُ ، أَلَا وَلَا حَجَّ لَهُ ، أَلَا وَلَا بِرَّ لَهُ ، أَلَا وَلَا صَدَقَةَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَطِيَّةَ الْبَاهِلِيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے اس جگہ کھڑے ہونے کے دوران اس گھڑی میں اس مہینے میں اس سال میں ( یعنی اس وقت سے لے کر ) قیامت کے دن تک کے لئے جمعہ تم لوگوں پر لازم قرار دے دیا ہے ، جو شخص کسی عذر کے بغیر اسے ترک کرے گا خواہ وہ عادل حکمران کے پیچھے یا ظالم حکمران کے پیچھے ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو جمع نہیں کرے گا ، اس کے معاملے میں اس کے لئے برکت نہیں رکھی جائے گی خبردار اس شخص کی نماز نہیں ہو گی خبردار اس شخص کا حج نہیں ہو گا خبردار اس شخص کی کوئی نیکی قبول نہیں ہو گی خبردار اس شخص کا صدقہ قبول نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عطیہ باہلی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3030
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةَ إِلَّا عَبْدٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ ، وَمَنِ اسْتَغْنَى بِلَهْوٍ أَوْ تِجَارَةٍ اسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَظِيمِ بْنِ رَغْبَانَ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ أَقْرَبُ إِلَى الضَّعْفِ ، وَعَبْدُ الْعَظِيمِ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالٰی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ ادا کرنا لازم ہے البتہ غلام یا عورت یا بچے کا معاملہ مختلف ہے ، اور جو شخص دلچسپی کی کسی چیز یا تجارت کی وجہ سے اس سے بے نیازی اختیار کرے گا اللہ تعالی اس شخص سے بے نیازی اختیار کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے ، اور لائق حمد ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبدالعظیم بن رغبان کی ابومعشر سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور ابومعشر نامی راوی ضعیف ہونے کے زیادہ قریب ہے ، اور عبدالعظیم نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3030
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الأوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد حديث 7853»
حدیث نمبر: 3031
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ إِلَّا عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ أَوْ ذِي عِلَّةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو الْبِلَادِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جمعہ واجب ہے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو کسی کی ملکیت ہو یا کسی علت ( یعنی بیماری ) کا شکار ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوالبلاد نامی راوی کے بارے میں امام ابوحاتم نے یہ کہا: ہے ، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3031
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3032
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ إِلَّا عَلَى امْرَأَةٍ أَوْ صَبِيٍّ أَوْ مَرِيضٍ أَوْ عَبْدٍ أَوْ مُسَافِرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ضِرَارٌ ، رَوَى عَنِ التَّابِعِينَ ، وَأَظُنُّهُ ابْنَ عَمْرٍو الْمَلْطِيَّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جمعہ واجب ہے البتہ عورت یا بچے یا بیمار یا غلام یا مسافر کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی ان پر واجب نہیں ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار ہے وہ تابعین سے روایات نقل کرتا ہے میرا خیال ہے کہ یہ ابن عمرو ملطی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3032
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3033
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَمْسَةٌ لَا جُمُعَةَ عَلَيْهِمُ ؛ الْمَرْأَةُ وَالْمُسَافِرُ وَالْعَبْدُ وَالصَّبِيُّ وَأَهْلُ الْبَادِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” پانچ قسم کے لوگوں پر جمعہ لازم نہیں ہے عورت مسافر بچہ غلام اور دیہات کا رہنے والا فرد “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد ہے ، جسے دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3033
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3034
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ غَزْوٌ وَلَا جُمُعَةٌ وَلَا تَشْيِيعُ جَنَازَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَرُوَاتُهُ كُلُّهُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ أَبِي قَتَادَةَ وَفِيهِمْ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عورتوں پر جنگ میں حصہ لینا یا جمعہ ادا کرنا یا جنازے کے ساتھ جانا لازم نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کے تمام راوی سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں ، اور ان میں مجہول راوی بھی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3034
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3035
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَشْهَدَ الْجُمُعَةَ وَلَا نَغِيبَ عَنْهَا وَقَالَ : " أَحَدُكُمْ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ بَعْدُ فِي تَارِكِ الْجُمُعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم جمعہ میں شریک ہوں ، اور اس سے غائب نہ رہیں آپ نے ارشاد فرمایا تھا : تم میں سے کوئی ایک اپنی جگہ کا زیادہ حق رکھتا ہو گا جب وہ اس کی طرف واپس آئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : جمعہ ترک کرنے والے شخص کے بارے میں احادیث آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3035
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف