حدیث نمبر: 2996
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : عُرِضَتِ الْجُمُعَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَهُ جِبْرِيلُ فِي كَفِّهِ كَالْمِرْآةِ الْبَيْضَاءِ فِي وَسَطِهَا كَالنُّكْتَةِ السَّوْدَاءِ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ " قَالَ : هَذِهِ الْجُمُعَةُ يَعْرِضُهَا عَلَيْكَ رَبُّكَ لِتَكُونَ لَكَ عِيدًا وَلِقَوْمِكَ مِنْ بَعْدِكَ، وَلَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ تَكُونُ أَنْتَ الْأَوَّلَ وَيَكُونُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى مِنْ بَعْدِكَ، وَفِيهَا سَاعَةٌ لَا يَدْعُو أَحَدٌ رَبَّهُ فِيهَا بِخَيْرٍ هُوَ لَهُ قَسَمٌ إِلَّا أَعْطَاهُ ، أَوْ يَتَعَوَّذُ مِنْ شَرٍّ إِلَّا دَفَعَ عَنْهُ مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْهُ ، وَنَحْنُ نَدْعُوهُ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْمَزِيدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَرَوَى أَبُو يَعْلَى طَرَفًا مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جمعہ کا دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا سیدنا جبرائیل اپنی ہتھیلی میں ایک صاف آئینہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے درمیان ایک سیاہ نقطہ موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کیا ہے انہوں نے عرض کی : یہ جمعہ کا دن ہے ، جو آپ کے پروردگار نے آپ کے سامنے کیا ہے تاکہ یہ آپ کے لئے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے عید بن جائے آپ لوگوں کے لئے اس میں بھلائی ہے آپ پہلے فرد ہیں ( جن کو یہ دن دیا گیا ہے ) یہودیوں اور عیسائیوں کے دن اس کے بعد ہیں اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس گھڑی میں جو بندہ اپنے پروردگار سے بھلائی کی جو بھی دعا مانگے گا اگر وہ اس کے نصیب میں ہو گی تو اللہ تعالیٰ اسے عطا کر دے گا یا وہ جس بھی شر سے پناہ مانگے گا ، تو اللہ تعالی وہ شر اس سے دور کر دے گا ہم ( فرشتے ) آخرت میں اسے ” یوم مزید“ کے نام سے پکارتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اگر اللہ نے چاہا تو

یہ روایت آگے چل کر جنت کی صفت سے متعلق باب میں آئے گی
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ“ ہیں امام ابویعلیٰ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2996
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح