حدیث نمبر: 2995
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَخْبِرْنَا عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَاذَا فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ ؟ قَالَ : " فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُهْبِطَ آدَمُ، وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ عَبْدٌ فِيهَا اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ مَأْثَمًا أَوْ قَطِيعَةَ رَحِمٍ ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ ، مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا حَجَرٍ إِلَّا وَهُوَ يُشْفِقُ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : " سَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ " وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَائِشَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فِي أَنَّ الْيَهُودَ حَسَدُونَا عَلَى الْجُمُعَةِ فِي بَابِ الْقِبْلَةِ وَالتَّأْمِينِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : آپ ہمیں جمعہ کے دن کے بارے میں بتائیے کہ اس میں کون سی بھلائی موجود ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس میں پانچ خصوصیات ہیں اس دن میں سیدنا آدم علیہ السلام ) کو پیدا کیا گیا اس دن میں ان کو نیچے اتارا گیا اس دن میں اللہ تعالٰی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو وفات دی اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس گھڑی میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگنے ، تو اللہ تعالی وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، جب کہ اس نے کسی گناہ والی چیز یا قطع رحمی سے متعلق نہ مانگا ہو اسی دن میں قیامت قائم ہو گی ہر مقرب فرشتہ آسمان زمین پہاڑ پتھر جمعہ کے دن سے خوف زدہ رہتے ہیں ( کہ کہیں آج قیامت قائم نہ ہو جائے ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ” دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا معاذ بن جبل کے حوالے سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” یہودی جمعہ کے حوالے سے ہم سے حسد کرتے ہیں “ ۔ یہ قبلہ اور آمین کہنے سے متعلق باب میں پہلے گزری ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔