حدیث نمبر: 2997
وَلِأَنَسٍ فِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَيَّامُ فَعُرِضَ عَلَيَّ فِيهَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ فَإِذَا هِيَ كَمِرْآةٍ بَيْضَاءَ ، فَإِذَا فِي وَسَطِهَا نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ ؟ قِيلَ : السَّاعَةُ " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے سامنے مختلف دن پیش کیے گئے ان میں میرے سامنے جمعہ کا دن پیش کیا گیا تو وہ سفید آئینے کی مانند تھا جس کے درمیان میں ایک سیاہ نقطہ موجود تھا میں نے دریافت کیا : یہ ( سیاہ نقطہ ) کیا ہے ، تو بتایا گیا : قیامت “ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔