حدیث نمبر: 299
وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَادِقًا غَيْرَ كَاذِبٍ ، وَلَقِيَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَحَبَّهُمْ ، وَكَانَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ عِنْدَهُ كَمَنْزِلَةِ نَارٍ أُلْقِيَ فِيهَا - فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ " . أَوْ قَالَ : " فَقَدْ بَلَغَ ذُرْوَةَ الْإِيمَانِ " . الشَّكُّ مِنْ صَفْوَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ ، اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ لِتَدْلِيسِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جھوٹا ہوئے بغیر ، سچا ہونے کے طور پر ، اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے ، اور جب وہ اہل ایمان سے ملتا ہے ، تو ان سے بھی محبت کرتا ہے اور زمانہ جاہلیت کا معاملہ اس کے نزدیک آگ میں ڈالے جانے کی مانند ہو ، تو اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا“ ۔
راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ” وہ ایمان کی چوٹی تک پہنچ جاتا ہے “ یہ شک صفوان نامی راوی کو ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُس کی سند میں ایک راوی شریح بن عبید ہے ، وہ ثقہ ہے ، اور تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس کی تدلیس کے وجہ سے ، اُس کے صحابہ کرام سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 299
درجۂ حدیث محدثین: إسناده سند
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 257/20»