حدیث نمبر: 298
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : أَتَى الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَتَيْتُ قَوْمًا يَتَحَدَّثُونَ ، فَلَمَّا رَأَوْنِي سَكَتُوا ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا أَنَّهُمُ اسْتَثْقَلُونِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَدْ فَعَلُوهَا ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُهُمْ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِحُبِّي ، أَتَرْجُونَ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جو آپس میں بات چیت کر رہے تھے ، جب انہوں نے مجھے دیکھا ، تو وہ خاموش ہو گئے ، ایسا صرف اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے مجھے بوجھ محسوس کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا انہوں نے ایسا کیا ہے ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اُن میں سے کوئی ایک ، اُس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ مجھ سے محبت رکھنے کی وجہ سے آپ لوگوں سے محبت نہیں رکھتا ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا : ) کیا تم لوگ یہ امید رکھتے ہو کہ میری شفاعت کی وجہ سے تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور بنوعبدالمطلب کو اُس کی امید نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 298
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 4674 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 96/2»